کراچی (رفیق مانگٹ) آبنائے ہرمز بندش کے خطرے کے باوجود ٹرمپ نے ایران کیخلاف جنگ کا فیصلہ کیا، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق دو ہفتے بعد عالمی معیشت اور توانائی خطرات، صدر نے مشیروں کو بتایا تہران بندش سے قبل ہتھیار ڈال دیگا، ایران جنگ ٹرمپ کی دو میعادوں کا سب سے مہلک فوجی آپریشن بن گیا، امریکی آپریشن پر ہفتہ وار اربوں ڈالر خرچ، امریکی معیشت پر منفی اثرات خدشہ، وائٹ ہاؤس کا کہنا ہےجنگ کا مقصد ایران کو ہرمز بند کرنے کی صلاحیت سے محروم کرنا ہے، امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے سے قبل یہ واضح بریفنگ حاصل کر لی تھی کہ جنگ کی صورت میں تہران دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، تاہم اس خطرے کے باوجود انہوں نے فوجی آپریشن کی منظوری دے دی۔ امریکی حکام کے مطابق صدر کو یقین تھا کہ ایران آبنائے بند کرنے سے پہلے ہی دباؤ میں آ کر ہتھیار ڈال دے گا، لیکن جنگ کے دو ہفتے گزرنے کے باوجود ایرانی قیادت نے پسپائی اختیار نہیں کی اور آبنائے ہرمز اب اس تنازع کا سب سے بڑا اسٹریٹجک دباؤ کا مرکز بن کر سامنے آ رہی ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق جنگ سے قبل جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے متعدد بریفنگز میں صدر ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ ایران امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ان بریفنگز میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ تہران بارودی سرنگیں، ڈرونز اور میزائل استعمال کر کے دنیا کی سب سے اہم شپنگ لین کو مفلوج کر سکتا ہے۔ باوجود اس کے، صدر ٹرمپ نے اپنی ٹیم کو یقین دلایا کہ ایران آبنائے بند کرنے سے پہلے ہی پسپا ہو جائے گا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر ایران نے ایسا کرنے کی کوشش بھی کی تو امریکی فوج اس کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم جنگ کے آغاز کے دو ہفتے بعد صورتحال توقعات کے برعکس سامنے آ رہی ہے۔ ایرانی قیادت نے ہتھیار ڈالنے یا پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز خطے میں کشیدگی کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔