کراچی (نیوز ڈیسک) عرب خلیجی ریاستوں کیساتھ تعلقات پر ’’سنجیدہ نظرثانی‘‘ کی ضرورت ہے، ایرانی سفیر؛ عنایتی کی سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید۔ تفصیلات کے مطابق تہران کے سعودی عرب میں متعین سفیر کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ کے تناظر میں عرب خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات پر ’’سنجیدہ نظرثانی‘‘ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کی خوشحالی کے لیے بیرونی قوتوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہوگا تاکہ علاقائی ممالک خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ جب سفیر علی رضا عنایتی سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں خدشہ ہے کہ جنگ کی وجہ سے تعلقات کو نقصان پہنچے گا، تو انہوں نے جواب دیا: ’’یہ ایک اہم سوال ہے، اور اس کا جواب سادہ ہو سکتا ہے۔ ہم پڑوسی ہیں اور ہم ایک دوسرے کے بغیر گزارا نہیں کر سکتے؛ ہمیں (اپنے تعلقات پر) ایک سنجیدہ نظرثانی کی ضرورت ہوگی۔‘‘ غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک، خلیجی عرب ریاستوں کو 2 ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان حملوں میں نہ صرف امریکی سفارتی مشنز اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔