اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) سیکورٹی خدشات: دقم بندرگاہ پر پاکستانی ’وی ایل سی سی‘ کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا، سعودی عرب کا کہنا ہے کہ خطے میں حالیہ سیکورٹی واقعات کے بعد اتنے بڑے جہاز کیلئے یہ بندرگاہ اب محفوظ تصور نہیں کی جا رہی ۔ تفصیلات کے مطابق آبنائے ہرمز کے گرد منڈلاتے ہوئے بحران کے درمیان، پاکستان کا وہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے جس کے تحت دقم بندرگاہ پر تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جانے والا ایک بہت بڑا بحری جہاز (وی ایل سی سی) لنگر انداز ہونا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سعودی عرب نے اسلام آباد کو مطلع کیا کہ خطے میں حالیہ سیکورٹی واقعات کے بعد، اتنے بڑے جہاز کے لیے یہ بندرگاہ اب محفوظ تصور نہیں کی جا رہی۔ اس کے بجائے، ریاض نے توانائی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خام تیل کی چار علیحدہ کارگوز براہ راست پاکستان کو فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ باخبر حکام کے مطابق، پاکستان نے سعودی عرب سے درخواست کی تھی کہ ایک وی ایل سی سی (بہت بڑے خام تیل بردار جہاز) کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے جو عمان کے قریب لنگر انداز ہو، جہاں سے خام تیل کو چھوٹے جہازوں میں منتقل کر کے پاکستانی ٹرمینلز تک پہنچایا جا سکے۔