• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا ایران جنگ، عالمی توانائی منڈیاں اور سپلائی چین شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار

اسلام آباد(رپورٹ ، تنویر ہاشمی )امریکا ایرن جنگ اور علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیاں اور سپلائی چین شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، ایسی صورتحال میں تھر کوئلہ کے بھر پور استعمال کی فوری ضرورت ہے، ماہرین کے مطابق درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کیلئے مقامی تھر کوئلے کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں تیز کی جائیں اس وقت پاکستان کی بنیادی توانائی ضروریات کا 40 فیصد سے زائد حصہ درآمدی خام تیل، ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات، ایل این جی اور کوئلے سے پورا کیا جاتا ہے، اس بھاری انحصار کے باعث ملک عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے سامنے مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تیل کی قیمت میں ہر 10ڈالر اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر سے 2ارب ڈالر تک بڑھ جاتا ہے جبکہ مہنگائی میں عموماً 0.5فیصدسے 0.6 فیصد پوائنٹ کا اضافہ ہوتا ہے،ان معاشی خطرات کو تھر کوئلے سے بجلی کی پیداوار بڑھا کر اور مقامی گیس کی فراہمی میں اضافہ کرکے کم کیا جا سکتا ہے،حالیہ ہفتوں میں ؂درآمدی کوئلے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 110 ڈالر فی ٹن (ایف او بی) تک پہنچ گئ، جو 2025 کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 22 فیصد زیادہ ہیں۔ اس اضافے کا سب سے زیادہ اثر بجلی اور سیمنٹ کے شعبوں پر پڑے گا جو بڑی حد تک درآمدی کوئلے پر انحصار کرتے ہیں، تھر کے بلاک ون اور بلاک ٹو کی مشترکہ پیداوار تقریباً 1 کروڑ 50 لاکھ ٹن سالانہ ہے، جس سے قومی گرڈ کو 2 ہزار 640 میگاواٹ سستی بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ 2026 کی دوسری ششماہی تک تھر بلاک 2 کی کان کنی کی صلاحیت بڑھا کر 1 کروڑ 12 لاکھ ٹن سالانہ کرنے کی توقع ہے تاکہ 660 میگاواٹ کے لکی پاور پلانٹ کو ایندھن فراہم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ حکومت تین درآمدی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں ساہیوال کول پاور پراجیکٹ، پورٹ قاسم کول پاور پراجیکٹ اور حب کول پاور پراجیکٹ میں تھر کوئلے کی آمیزش شروع کرنے کی کوششیں بھی کر رہی ہے، جن کی مجموعی صلاحیت 3 ہزار 960 میگاواٹ ہے۔ماہرین کے مطابق ماضی میں درآمدی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت تھر کوئلے کے مقابلے میں تقریباً 4 روپے فی یونٹ زیادہ رہی ہے۔

اہم خبریں سے مزید