• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودیہ، قطر، امارات، کویت اور اسرائیل کی توانائی تنصیبات پر ایرانی حملے، زمینی فوج بھیجنے سے ٹرمپ کا انکار

تہران،واشنگٹن، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) ایران نے سعودی عرب ، قطر ، متحدہ عرب امارات ، کویت اور اسرائیل میں توانائی کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کئے ہیں ، بحرین کے دارالحکومت مناما میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں،قطر میں دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی پلانٹ ، سعودی عرب اور کویت میں تیل کی سب سے بڑی ریفائنریز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں،عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 10فیصد اضافے کے بعد 119ڈالر فی بیرل تک جاپہنچی تاہم اس کے بعد قیمت واپس 112ڈالر فی بیرل پر آگئیں،اسرائیل کی جانب سے بدھ کے روزایران میں سائوتھ پارس کی گیس کی تنصیب پر حملے کے جواب میں ایران نے قطر کی راس لافان کے ایل این جی کمپلیکس کو نشانہ بنایاجس سے اسے شدید نقصان پہنچا ہے، اس حملے کے بعدبرطانیہ اور یورپ میں گیس کی قیمتیں 35فیصد بڑھ گئیں ، قطر نے ایرانی سفارتکار بے دخل کردیئے،کویت کی سب سے بڑی آئل ریفائنری مینا الاحمدی پر حملے کے بعد اس میں آگ لگ گئی تاہم اس پر قابو پالیا گیا، ایرانی میزائل حملے میں اسرائیل میں حیفا آئل ریفائنری کو بھی نقصان پہنچا ہے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی میزائلوں کے ٹکڑے لگنے کے بعد آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی ۔ قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا کہ یہ حملہ اس بات کا "واضح ثبوت" ہے کہ ایران خلیج میں صرف امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے اپنے عہد سے آگے بڑھ رہا ہے۔سعودی وزارت دفاع نے بتایا کہ ایک ڈرون سعودی عرب کی بحیرہ احمر کی بندرگاہ نبع میں سامرف ریفائنری سے ٹکرایا۔ ان کاکہنا ہے کہ ریاض اس حملے کے جواب میں "فوجی کارروائی کرنے کا حق" محفوظ رکھا۔برطانیہ، فرانس، جرمنی اور ان کے اتحادیوں نے ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے، جن میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو دھمکانا بند کرے،ایران کے وزیرِ خارجہ عباسی عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی توانائی تنصیبات پر مزید حملے ہوئے تو تہران ’بالکل بھی تحمل‘ سے کام نہیں لے گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں،اُن کا دعویٰ ہے کہ امریکی کارروائی ’شیڈول سے آگے‘ ہے۔

kk

اہم خبریں سے مزید