• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم کا شاہ اردن اور ترک صدر سے رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو، سفارتی حل پر اتفاق

راولپنڈی/اسلام آباد(راناغلام قادر) وزیراعظم محمد شہباز شریف اور اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے جبکہ وزیراعظم نے اردن پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اردن کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔شہباز شریف کا ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے بھی ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے ‘دونوں رہنمائوں نے اتفاق کیا کہ علاقائی صورتحال کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔علاوہ ازیں شہباز شریف نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے عوام سے پٹرول اور ڈیزل کی بچت کے اقدامات کو اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے صوبوں کے ساتھ مل کر ایک جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی ہےجبکہ چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے علمائے کرام کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اتحاد کو مضبوط کریں اور انتہاپسندی کا مقابلہ کریں۔ کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا،دہشت گردوں اور ان کے ڈھانچے کے خاتمے کے لیے درست اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جائیں گی ۔جمعرات کو آئی ایس پی آرسے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیرسے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علمائے کرام نے یہاں ملاقات کی۔آپریشن غضب لِلحق کا حوالہ دیتے ہوئے آرمی چیف نے زور دیا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیاجائیگا‘افغان طالبان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔علاوہ ازیں جمعرات کو شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس منعقد ہوا جس میں آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک ‘وفاقی وزراءاور متعلقہ اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کوبتایا گیا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے پٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور مزید بھی انتظام کیا جا رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید