• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی ایئر لائن صنعت، بدترین بحران، 20 ایئر لائنز کا 147 کھرب، 72 ارب روپے سے زائد کا نقصان

کراچی (رفیق مانگٹ) مشرقِ وسطیٰ جنگ، عالمی ایئرلائن صنعت کورونا کے بعد بدترین بحران میں،20 ائیرلاینز کا 147 کھرب 72ارب روپے سے زائد کانقصان، خلیجی فضائی حدود کی بندش، عالمی پروازوں کا شیڈول شدید متاثر، جیٹ فیول کی قیمت دگنا، ٹکٹ مہنگے ہونے کا خدشہ، ایئرلائنز کے اخراجات میں اضافہ، منافع برقرار رکھنا مشکل، اضافی لاگت برداشت ممکن نہیں، کرایوں میں اضافہ ناگزیر،لفتھانسا ،خلیجی ایئرلائنز نے روٹس محدود، کارگو سیکٹر بھی دباؤ میں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی فضائی صنعت کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے، جہاں پروازوں کی معطلی، ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور طلب میں ممکنہ کمی نے ایئرلائنز کو بڑے مالی اور آپریشنل چیلنجز میں دھکیل دیا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی ایئرلائن صنعت کورونا وبا کے بعد اپنے بدترین بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد دنیا کی بڑی ایئرلائن کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ ویلیو میں 50 ارب ڈالر سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ فضائی آپریشنز بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔جنگ شروع ہونے کے بعد سے 20 سب سے بڑی پبلک لسٹڈ ایئر لائنز کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں تقریباً147 کھرب72 ارب روپے( 53 ارب ڈالر )کی کمی آئی ہے۔ ایئرلائن حکام کا کہنا ہے کہ بحران کا مرکز خلیجی خطہ ہے، جہاں فضائی حدود کی بندش اور سیکیورٹی خدشات کے باعث پروازوں کے شیڈول میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ خاص طور پر بڑی خلیجی ایئرلائنز کو اپنے روٹس محدود کرنے پڑے ہیں، جس سے عالمی فضائی نیٹ ورک متاثر ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جیٹ فیول، جو ایئرلائن اخراجات کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہوتا ہے، حالیہ ہفتوں میں دوگنا ہو چکا ہے۔ اس اضافے کے باعث ایئرلائنز کے لیے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے، اور ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں ٹکٹوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ لفتھانسا کے چیف ایگزیکٹیو کا کہنا ہے کہ جرمنی کی سب سے بڑی ایئر لائن کے پاس کرایوں میں اضافے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ہمارا اوسط منافع فی مسافر تقریباً 10 یورو ہے، آپ اضافی لاگت کو جذب کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ کارگو سیکٹر بھی متاثر ہوا ہے کیونکہ سمندری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث فضائی مال برداری میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے کئی ہوائی اڈوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور آپریشنل مسائل جنم لے رہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید