تہران /دبئی (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 15 نکاتی منصوبہ قیاس آرائی پر مبنی ہے‘اس میں کچھ عناصر درست ہیں ‘جب تک کوئی باضابطہ اعلان نہ ہو کسی بھی قیاس آرائی کو سرکاری مؤقف نہ سمجھا جائے۔امریکی خبررساں ایجنسی نے دو پاکستانی عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو جنگ بندی کے حصول کے لیے امریکا کا 15 نکاتی منصوبہ موصول ہو گیا ہےاوراب تہران کے جواب کا انتظار ہے ۔پاکستانی حکام کے مطابق مجوزہ منصوبے میں ایران پر پابندیوں میں نرمی‘ امریکا ایران سویلین جوہری تعاون‘ایران کے نیوکلیئر پروگرام کا خاتمہ‘عالمی توانائی ایجنسی کی طرف سے ایران کی نگرانی‘ایران کے میزائل پروگرام میں کمی اور آبنائے ہرمز تک رسائی اوردیگرنکات شامل ہیں‘دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں پاکستان کے ذریعے تجویز موصول ہوئی ہے اور اگر مذاکرات آگے بڑھتے ہیں تو وہ پاکستان یا ترکی میں ہو سکتے ہیں۔ایران نے امریکی تجویز کا جائزہ لیا ہے اور امریکی شرائط کو غیر معمولی (حد سے زیادہ) قرار دیا ہے۔دوسری جانب تہران نے ابتدائی طورپر امریکا کا مجوزہ منصوبہ مسترد کر دیا تاہم بعد میں اس پر غور کے بعدواشنگٹن کو 5جوابی مطالبات پیش کردیئے جن میں دشمن کی طرف سے جارحیت اورقتل عام کا مکمل خاتمہ‘دوبارہ جنگ کو روکنے کے لیے مربوط طریقہ کار‘جنگ میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ‘لبنان سمیت خطے میں تمام محاذوں اور مزاحمتی گروہوں کے خلاف جنگ کا خاتمہ اورآبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تسلیم کرنے کے نکات شامل ہیں ۔ایران کےایک سینئرسیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران صدر ٹرمپ کو اس جنگ کے خاتمے کے وقت کا تعین نہیں کرنے دے گا۔تہران اس جنگ کا اختتام اپنی مرضی کے وقت پر کرے گا جب اس کی شرائط مان لی جائیں گی۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے جنگی اہداف میں ناکام ہو چکا ہے جن میں فوری فتح اور حکومت کی تبدیلی شامل تھے۔پڑوسی ممالک کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ وہ خود کو امریکا سے الگ کر لیں ۔ خطے میں فوجی اڈے ہونے کے باوجود امریکا علاقائی ممالک کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے خود ساختہ عالمی سپر پاور کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی شکست کو معاہدہ نہ کہیں۔ابراہیم ذوالفقاری نےایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ کیا آپ کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ آپ خود ہی اپنے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں؟انہوں نے مزیدکہاکہ آپ نہ تو خطے میں اپنی سرمایہ کاری دوبارہ دیکھیں گے اور نہ ہی توانائی اور تیل کی وہ پرانی قیمتیں جب تک آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ خطے کا استحکام ہماری مسلح افواج کے طاقتور ہاتھ سے یقینی بنتا ہے۔ استحکام طاقت سے آتا ہے۔ہم جیسے لوگ آپ جیسے لوگوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ نہ اب، نہ کبھی۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سفارت کاری پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور ایرانی فوج اپنی خود مختاری کے دفاع پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ادھر اپنی پریس بریفنگ میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ سے زمینی فوج بھیجنے کیلئے کانگریس کی منظوری کا پوچھا گیا توانہوں نے جواب دیاکہ اس وقت ایسی منظوری کی ضرورت نہیں‘لیوٹ نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ گذشتہ تین دن سے ایران کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز گفتگو میں مصروف ہیں تاہم اگر ایران نے موجودہ صورتحال کو قبول نہ کیا تو ٹرمپ پہلے سے کہیں زیادہ سخت ضرب لگائیں گے۔