اسلام آباد (تنویر ہاشمی،مہتاب حیدر) حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت موجودہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں 10 فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 1000 ارب روپے سے کم کر کے 900 ارب روپے کر دیا ہے، تاکہ بچائی گئی رقم کو دیگر ضروری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات (POL) کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے پر خرچ ہوگی۔ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کا نتیجہ ہے، کے باعث حکومت کے پاس کفایت شعاری اقدامات اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ رسد کی روانی اور قیمتوں کے جھٹکوں سے بچنے کے لیے "اسمارٹ لاک ڈاؤن" جیسے مختلف آپشنز پر بھی غور کیاگیا۔گزشتہ دو ہفتوں کے دوران حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے سبسڈی فراہم کی، تاہم ہائی آکٹین اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرنا پڑا۔حکومت نے بجٹ میں ہنگامی اقدامات کے لیے 390 ارب روپے مختص کیے تھے، جن میں سے کچھ رقم دانش اسکولز کی تعمیر پر خرچ کی گئی، جبکہ اب اس میں سے کچھ حصہ ایندھن پر سبسڈی دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ اس 390 ارب روپے میں سے اب کتنی رقم باقی رہ گئی ہے۔