اوسلو (نیوزڈیسک) خلیج کی جنگ اور آبنائےہرمز کی بندش نےمشرق وسطیٰ میں غذائی اشیا کی فراہمی کا نظام درہم برہم کردیا ہے، ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق خلیجی تعاون کونسل کے ممالک سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کااپنی ضرورت کیلئے85فیصد درآمدی خوراک پر انحصار کرتے ہیں۔ڈنمارک کے کنٹینر شپنگ کمپنی کےحکام کا کہنا ہےکہ ہم خلیجی ممالک میں کارگو پہنچانے کیلئے آبنائے ہرمز کےمتبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تفصیلات کےمطابق خلیج کی جنگ اورآبنائے ہرمز کی بندش نے خلیج میں بحری تجارت کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے، جس کے اثرات عالمی سپلائی چین پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ڈنمارک کے کنٹینر شپنگ گروپ کے چیئرمین کےمطابق مشرق وسطیٰ کے خطے کو غذائی اشیاء کی درآمد کی سخت ضرورت ہے۔