• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران امریکا جنگ، پاکستان کا لیڈنگ سفارتی کردار بھارتی خارجہ پالیسی کیلئے بڑا دھچکا

اسلام آباد ( طاہر خلیل ) اسلام آباد میں خارجہ تعلقات کے ماہرین اور سیکورٹی ذرائع نے ایران امریکا جنگ کے حوالے سے پاکستان کے لیڈنگ سفارتی کردار کو بھارت کی خارجہ پالیسی کیلئے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں ماہرین چھ وجوہات بیان کرتے ہیں جن کی وجہ سے بھارت خارجہ تعلقات میں تاریخ کی بد ترین سفارتی تنہائی دیکھ رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ایک بنیادی بیک چینل انٹرلوکیوٹر کے طور پر مصر اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کا ابھرنا نئی دہلی کے لیے ایک زبردست اسٹریٹجک دھچکا ہے،ایک ایسی حکومت کے لیے جس نے پاکستان کو تنہا کرنے اور نریندر مودی کی ذاتی قیادت میں ہندوستان کو ناگزیر وشوا گرو کے طور پر پیش کرنے پر اپنی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا ہے، یہ پیشرفت کسی سیاسی اور سفارتی تباہی سے کم نہیں ،آزاد ہندوستان کی سفارتی تاریخ کے سب سے ذلت آمیز نکات میں سے ایک، یہ مودی کی خارجہ پالیسی کی بے سمت نام نہاد عظمت بے نقاب ہو گئی جو ہندوستان کے لیے بڑا جھٹکا ہے، مودی کی پاکستان کو الگ تھلگ پالیسی کا خاتمہ ہوا ایک دہائی سے مودی کی خارجہ پالیسی کی بنیاد پاکستان کو سفارتی طور پر غیر متعلقہ - لاپرواہ، الگ تھلگ اور غیر متعلق قرار دینے کی کوشش رہی ہے،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کی حکمت عملی بری طرح ناکام ہو گئی، جب عالمی سپر پاور اور ایک علاقائی ہیوی ویٹ کے درمیان جنگ کے لئے تو امریکانے مودی کی طرف نہیں بلکہ فیلڈ مارشل سے رجوع کیا جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان ایک اہم محور اور متحرک اور پاکستان نے اس جنگ کو روکنے میں اہم رول ادا کیا۔
اہم خبریں سے مزید