• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوانوں میں شدت پسندی 3 برس میں بڑھ گئی، آن لائن گیمنگ اور متعلقہ پلیٹ فارمز کا استعمال تشویشناک

کراچی( ثاقب صغیر )نوجوانوں میں شدت پسندی (ریڈیکلائزیشن) میں گزشتہ تین برسوں کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے،نوجوانوں میں شدت پسندی کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک پہلو آن لائن گیمنگ اور اس سے متعلق پلیٹ فارمز کا استعمال ہے،بعض کم عمر افراد کو سمیولیشن گیمز میں مساجد، عبادت گاہوں یا اسکولوں پر حملوں کی مشق کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے جس سے ڈیجیٹل کھیل اور حقیقی دہشت گردی کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے،شدت پسندی کی جانب مائل ہونے کا اوسط دورانیہ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔امریکی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ پیس کے مطابق سال 2025 میں یورپ اور شمالی امریکہ میں دہشت گردی سے متعلق تمام تحقیقات میں بچوں اور نوعمروں کا حصہ 42فیصد تھا جو 2021کے مقابلے میں تین گنا اضافہ ہے۔2024میں یورپ میں داعش سے منسلک گرفتاریوں میں تقریباً دو تہائی کیسز میں نوعمر افراد ملوث تھے جبکہ مغربی ممالک میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد بڑھ کر 52ہو گئی جو پچھلے سال 32تھی۔رپورٹ کے مطابق شدت پسندی کی جانب مائل ہونے کا اوسط دورانیہ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔سال 2005میں یہ 18ماہ تھا، 2016 میں 13ماہ رہ گیا جبکہ آج یہ عمل چند ہفتوں میں بھی مکمل ہو سکتا ہے۔ اندازاً 87فیصد شدت پسند بننے والے کم عمر افراد ماضی میں لاپرواہی یا نفسیاتی تشدد کا شکار رہے جبکہ 77فیصد نے شدت پسندی سے پہلے ترک کیے جانے (abandonment) کا تجربہ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ نوجوانوں میں شدت پسندی بڑھ رہی ہے لیکن ان کی طرف سے بنائے گئے منصوبے نسبتاً کم منظم ہوتے ہیں اور سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں پکڑے جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ سال 2022 سے 2025 کے درمیان کم عمر افراد سے متعلق 97 فیصد دہشت گرد منصوبے ناکام بنائے گئے جبکہ صرف بالغ افراد کے منصوبوں کی ناکامی کی شرح 68 فیصد رہی۔ گزشتہ پانچ برسوں میں مغربی ممالک میں ہونے والے 93 فیصد مہلک دہشت گرد حملے تنہا حملہ آوروں (لون وولف) نے کیے اور یہ افراد گروہوں کی نسبت تین گنا زیادہ کامیابی سے حملہ کرنے میں کامیاب رہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوجوانوں میں شدت پسندی کی وجوہات خطے کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ مغربی ممالک میں تنہائی اور معاشرتی علیحدگی اہم عوامل ہیں۔ سب صحارا افریقہ میں 71 فیصد افراد نے ریاستی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو شدت پسند گروہوں میں شامل ہونے کی بڑی وجہ قرار دیا جبکہ ایک چوتھائی افراد نے روزگار کے مواقع کی مکمل کمی کو اس کی وجہ بتایا۔رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ، سوشل میڈیا کے الگورتھمز، اور جدید گیمنگ ماحول نے شدت پسندی (ریڈیکلائزیشن) کے طریقہ کار کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے جس کے ذریعے شدت پسند بھرتی کرنے والے افراد روایتی سماجی رکاوٹوں جیسے والدین، اساتذہ اور مذہبی رہنماؤں کو باآسانی نظرانداز کر لیتے ہیں۔۔ یہ عمل عموماً الگورتھم سے چلنے والے مرکزی پلیٹ فارمز جیسے TikTok، Instagram، Facebook اور YouTube Shorts سے شروع ہوتا ہے۔صارف کی توجہ اور مصروفیت بڑھانے کے لیے بنائے گئے یہ الگورتھمز غیر ارادی طور پر نوجوانوں کو بتدریج زیادہ انتہا پسند اور جذباتی مواد کی طرف لے جاتے ہیں۔ جب کوئی کم عمر فرد ان پلیٹ فارمز پر نظریاتی کمزوری یا دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو بھرتی کرنے والے اسے خفیہ پیغام رسانی کی ایپس جیسے Telegram، Signal یا Wire پر منتقل کر دیتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید