• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئی قسم کا "ٹائم کرسٹل" تیار، نیوٹن کے ’’قانون حرکت‘‘ کی خلاف ورزی

کراچی( ثاقب صغیر )امریکہ کی نیویارک یونیورسٹی کے ماہر طبیعیات نے آواز کی لہروں (ساؤنڈ ویوز) کی مدد سے ایک نئی قسم کا "ٹائم کرسٹل" تیار کیا ہے جس میں ذرات ایسے برتاؤ کرتے دکھائی دیتے ہیں جیسے وہ نیوٹن کے معروف تیسرے قانون حرکت Newton’s Third Law of Motion کی خلاف ورزی کر رہے ہوں۔ٹائم کرسٹل مادے کی ایک غیر معمولی شکل ہے جس میں ذرات ایک پنڈولم کی طرح مسلسل ارتعاش (oscillation) کرتے رہتے ہیں۔ کئی سالوں کی پیش گوئی کے بعد سائنس دانوں نے تقریباً ایک دہائی قبل پہلا ٹائم کرسٹل بنایا اور اب مختلف اقسام دریافت کی جا چکی ہیں جن کے مختلف استعمالات ممکن ہیںاس ٹائم کرسٹل میں ذرات غیر متوازن اور غیر باہمی (nonreciprocal) انداز میں حرکت کرتے ہیں جو ٹیکنالوجی اور صنعت کے لیے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔نیوٹن کا تیسرا قانون حرکت جس کے مطابق ہر عمل کے برابر اور مخالف رد عمل ہوتا ہے دنیا کی بہت سی ایپلیکیشنز کی بنیاد ہے۔ راکٹ انجن سے لے کر گیند کے اچھلنے،مچھلی کے تیرنے اور بچوں کے ٹرامپولین پر کودنے تک سب کچھ اسی قانون کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔تکنیکی طور پر اس قانون کے مطابق قوتیں ہمیشہ جوڑوں کی صورت میں پیدا ہوتی ہیں۔ جب قوتیں غیر متوازن ہوں تو کسی شے کی حرکت کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر کوئی نظام اس قانون کی پیروی نہ کرے تو سائنس اور ٹیکنالوجی میں نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ٹائم کرسٹل مادے کی ایک غیر معمولی شکل ہے جس میں ذرات ایک پنڈولم کی طرح مسلسل ارتعاش (oscillation) کرتے رہتے ہیں۔ کئی سالوں کی پیش گوئی کے بعد سائنس دانوں نے تقریباً ایک دہائی قبل پہلا ٹائم کرسٹل بنایا اور اب مختلف اقسام دریافت کی جا چکی ہیں جن کے مختلف استعمالات ممکن ہیں۔ این وائی یو کے سینٹر فار سافٹ میٹر ریسرچ کے پروفیسر David Grier کے مطابق ٹائم کرسٹل نہ صرف اپنے ممکنہ استعمالات کی وجہ سے دلچسپ ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ یہ نہایت منفرد اور پیچیدہ معلوم ہوتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید