کراچی (اسد ابن حسن) جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں رہائش پزیر پاکستانی فیملی گیارہبرس سے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن حکام کی نااہلی اور کوتاہی پر سندھ ہائی کورٹ سے انصاف کی طلبگار تھی اور آخر کار انصاف مل گیا۔ سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پانچ صفحات پر مشتمل فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ مدعی طاہرہ خاتون، اس کی بیٹی سونیا اور نواسہ محمد بن راحیل نے اپنی پٹیشن میں وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈی جی امیگریشن اور پاسپورٹ، ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ اور پاسپورٹ آفس کراچی کے ڈائریکٹر کو فریقین بناتے ہوئے پٹیشن فائل کی تھی۔ 2015 میں مدعی نے کراچی میں کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ بنوایا مگر پاسپورٹ آفس حکام کی ناہلی اور کوتاہی سے اس کا پرانا پاسپورٹ منسوخ نہیں کیا گیا۔