اسلام آباد (طاہر خلیل ) خلیج میں جاری صورتحال پر جمعرات کو ایوان صدر میں اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس کا انعقادہوا،اجلاس میں سکیورٹی ، تیل و گیس فراہمی ، معاشی منظر نامے ، غذائی تحفظ یقینی بنانے کا فیصلہ ، وزرائے خزانہ اور پٹرولیم نے اجلاس کو بریفنگ دی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے دیگر شعبوں پر اثرات کو کم کرنے اور کفایت شعاری اقدامات کے ذریعے اخراجات کے دباؤ کم کرنے کےلئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں،اجلاس میں ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجز کے پیشِ نظر قومی اتفاقِ رائے برقرار رکھنے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا، جمعرات کو ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف ،چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر متعلقہ وفاقی وزرا اور سینئر حکام موجود تھے ، دیگر شرکاءمیں نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر سید محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر توانائی و پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور سیکرٹری خزانہ شامل تھے، اجلاس سے قبل صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان الگ ملاقات ہوئی ،جس میں مجموعی سیاسی ،سیکورٹی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں پاکستان کے کردار پر صدرکو اعتماد میں لیا،ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے خطے کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم اپناکردار اداکرنے کو حاضر ہیں ۔تفصیلات کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایوانِ صدر میں ایک اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس کی صدارت کی جس میں تیل کی فراہمی میں رکاوٹوں اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں معیشت اور توانائی کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں عالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ وزرائے خزانہ اور پٹرولیم نے اجلاس کو بریفنگ دی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے دیگر شعبوں پر اثرات کو کم کرنے اور کفایت شعاری اقدامات کے ذریعے اخراجات کے دباؤ کم کرنے کےلئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اجلاس میں وسیع تر علاقائی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی جس میں پاکستان کی سکیورٹی، معاشی منظرنامے اور غذائی تحفظ پر اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اپنائی جائے اور پالیسی فیصلوں میں استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے عوامی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجز کے پیشِ نظر قومی اتفاقِ رائے برقرار رکھنے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔