پشاور (نیوزرپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں سٹرکوں کی صورتحال کے حوالے سے دائر درخواستوں پر صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا دوران سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے صوبے کہ سٹرکوں بلخصوص ساؤتھ کی سٹرکوں پر عوام کی تحفظ اور 24 گھنٹے پولیس اہلکاروں کی موجودگی کو یقینی بنائیں کیونکہ سیکورٹی اہلکاروں کی شام 5 بجے کے بعد سٹرکوں پر غیر موجودگی پر این ایچ اے نے سوال اٹھایا ہے صورتحال اب بھی انتہائی خراب ہے روزانہ 5سے 6پولیس اہلکار شہید ہورہے ہیں۔ رٹ درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس محمد اعجاز خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ۔رٹ پیٹیشنز کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت میں درخواست گزار وکلاء، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل اور این ایچ اے حکام پیش ہوئے ۔ چترال کی سڑکوں سے متعلق سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ چترال کی سٹرکیں خراب ہیں وہاں آئے روز حادثات پیش آرہے ہیں ۔اس دوران وکیل این ایچ اے نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے مالی مشکلات کے باعث کفایت شعاری مہم اپنائی ہے چترال کی سٹرکوں پر پولیس کی تعیناتی نہیں کی جاتی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے، آج کل جس کے پاس بندوق ہے وہ مافیا بن گیا ہے۔ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل نے عدالت کوبتایا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کو جدید اسلحہ کی خریداری کے لئے 21 ارب روپے جاری کئے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ صورتحال اب بھی انتہائی خراب ہے روزانہ 5 سے 6 پولیس اہلکار شہید ہورہے ہیں۔اے جی نے عدالت کوبتایا کہ اب حالات پہلے سے کافی بہتر ہورہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ این ایچ اے نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات پر تمام سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔