• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نکاح نامہ اصلاحات نفاذ، آر ٹی آئی درخواست مسترد، سول سوسائٹی کا ردعمل

لاہور(آصف محمود بٹ ) پنجاب انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے ایک ایسی آر ٹی آئی شکایت مسترد کر دی جس میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کے تحت نکاح نامہ میں اصلاحات کے نفاذ کے بارے میں معلومات طلب کی گئی تھیں۔چیف انفارمیشن کمشنر محمد مالک بھلہ نے بتایا کہ درخواست دہندہ کو یہ معلومات سیکریٹری مقامی حکومت سے طلب کرنے کے بجائے مقامی یونین کونسلز سے حاصل کرنی چاہئیں۔فیصلہ شہری حقوق کیخلاف ،عبداللہ ملک سربراہ سول سوسائٹی، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات موصول ہونے کے بعد، محکمہ نے معاملہ منظوری اور نفاذ کے لیے صوبائی کابینہ کو بھیجا جس کے بعد صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ معاملے کا جائزہ لے اور رہنمائی فراہم کرے لیکن کمیٹی نے معاملہ بعد میں متحدہ علماء بورڈ کو بھیجا تاکہ شرعی اور قانونی رائے حاصل کی جا سکے۔ کمیشن کے فیصلے پر سول سوسائٹی نے شدید ردعمل میں اسے شہری حقوق کے خلاف "غیر قانونی"، "جانبدار" اور شفافیت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔۔پنجاب انفارمیشن کمیشن کے فیصلے اور سول سوسائٹی کی تنقید پر چیف انفارمیشن کمشنر محمد مالک بھلہ نے بتایا کہ درخواست دہندہ کو یہ معلومات سیکریٹری مقامی حکومت سے طلب کرنے کے بجائے مقامی یونین کونسلز سے حاصل کرنی چاہئیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے رولپنڈی بنچ کا فیصلہ نکاح نامہ میں طویل عرصے سے موجود ابہام کو دور کرنے اور مہر کے تنازعات سے بچاؤ کے لیے دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے مطابق 13 سے 16 کالم ایک ساتھ پڑھے جائیں گے۔ان عدالتی ہدایات کے باوجود اصلاحات مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئیں جس پر شہزاد کی آر ٹی آئی درخواست دائر کی گئی۔ سول سوسائٹی نے پی آئی سی کے فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ نیٹ ورک آف سول سوسائٹی کے صدر عبداللہ ملک نے کہا کہ پی آئی سی کا فیصلہ دفعہ 10 کے تحت صریحاً غلط استعمال ہے۔ ان کے بقول، جب شہری محکمے سے یہ پوچھتے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل ہوا یا نہیں، تو یہ صرف معلوماتی نوعیت کا سوال ہے اور کسی کارروائی کا مطالبہ نہیں کرتا، اس لیے یہ آر ٹی آئی کے دائرہ میں آتا ہے۔عبداللہ ملک نے مزید کہا کہ پی آئی سی کا رویہ شفافیت کو نقصان پہنچاتا ہے اور شہریوں کو قانونی حقوق استعمال کرنے سے روکتا ہے۔

ملک بھر سے سے مزید