کراچی (رفیق مانگٹ) سابق اسرائیلی انٹلیجنس چیف نے کہا ہے کہ ایران کیخلاف فوجی مہم منصوبہ کے مطابق جاری ہے، موجودہ ایرانی حکومت ختم ہوگئی تو اسرائیل اور عرب ممالک کے تعلقات معمول پر آ سکتے ہیں۔ فوجی کامیابیاں فوری نتائج کی ضمانت نہیں، پائیدار تبدیلی کیلئے ایرانی عوام کی داخلی کارروائی ضروری ہے۔ سابق اسرائیلی انٹیلی جنس چیف اور فضائیہ پائلٹ امیوس یادلن نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی مہم منصوبے کے مطابق کامیابی کی جانب گامزن ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی فضائی کارروائیوں میں ایران کے اعلیٰ عسکری قائدین ہلاک کر دیے گئے ہیں اور اب توجہ ملک کی عسکری و صنعتی صلاحیت کو کمزور کرنے پر مرکوز ہے۔ یادلن کے مطابق ابتدائی کارروائیوں میں اسرائیل نے فضائی بالادستی حاصل کر لی ہے اور ابتدائی گھنٹوں میں ایران کے 40 سے 50اعلیٰ عسکری رہنماؤں کو ہلاک کیا گیا۔ موجودہ توجہ ایران کی فوجی-صنعتی بنیاد کو نقصان پہنچانے پر ہے، جس میں میزائل کی تیاری اور جوہری سہولیات شامل ہیں۔ اگرچہ فضائی مہم نے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا، یادلن کا کہنا ہے کہ پائیدار حکومت تبدیلی کے لیے ایرانی عوام کی داخلی کارروائی ضروری ہے، صرف بیرونی قوت کافی نہیں۔