کراچی( ثاقب صغیر )سال 2025 میں سب سے زیادہ مہلک چار دہشت گرد گروہوں کو دہشت گردی کی مجموعی اموات میں سے 3,869 یعنی تقریباً 70 فیصد کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ان گروہوں میں داعش، جماعت نصرت الاسلام ولمسلمین، تحریک طالبان پاکستان اور الشباب شامل ہیں۔مجموعی طور پر 89فیصد دہشت گردی کی اموات کسی نہ کسی مخصوص گروہ سے منسوب کی گئیں۔ امریکی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ پیس کی رپورٹ کے مطابق بہت سی بڑی دہشت گرد تنظیموں کے ذیلی یا منسلک گروہ ہوتے ہیں جو یا تو ان کے ساتھ شراکت میں کام کرتے ہیں یا جزوی طور پر انہی کی کمان میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی عام بات ہے کہ بعض گروہ اپنے کیے گئے حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے خاص طور پر جب وہ ایسے علاقوں میں ہوں جہاں شدید تنازع جاری ہو۔تنازعات سے بھرپور ماحول میں ایسے حملے جن میں غیر معمولی طور پر بہت زیادہ یا بہت کم جانی نقصان ہو، اکثر بغیر دعوے کے رہ جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دوسری طرف جو گروہ انتہائی مہلک حملوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں وہ بعض اوقات ان کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں تاکہ حکومت یا مقامی آبادی کے ردعمل سے بچ سکیں کیونکہ ایسا ردعمل ان کی بھرتی کی کوششوں کو متاثر کر سکتا ہے یا ان کے خلاف سخت انسداد بغاوت کارروائیوں کو جنم دے سکتا ہے۔اسی طرح کم اثر والے حملوں کی ذمہ داری لینے میں بھی دہشت گرد گروہ زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ ایسے واقعات کو ناکامی سمجھا جا سکتا ہے جو ان کے اثر و رسوخ کو کمزور کر سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق سال 2015 میں یہی گروہ ( جماعت نصرت الاسلام ولمسلمین کے بغیر) تقریباً 46 فیصد اموات کے ذمہ دار تھے۔اس رپورٹ میں انسٹی ٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ پیس (IEP) دہشت گرد گروہوں اور ان کے منسلک دھڑوں کے ڈیٹا کو یکجا کرتا ہے جو ایک ہی تنظیمی نام کے تحت کام کرتے ہیں۔مثال کے طور پر داعش میں مرکزی تنظیم کے ساتھ ساتھ اس کے ذیلی گروہ بھی شامل ہیں جیسے اسلامک اسٹیٹ خراسان صوبہ اور اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ صوبہ ۔جب کسی مخصوص ذیلی گروہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا نام واضح طور پر بیان کیا جاتا ہے۔2025 میں 2024 کے مقابلے میں زیادہ فیصد دہشت گرد حملوں کو کسی مخصوص گروہ سے منسوب کیا گیا جس میں تقریباً 14 فیصد اضافہ ہوا۔ 2025 میں ہونے والے 2,944 مجموعی واقعات میں سے تقریباً 78 فیصد کسی نہ کسی مخصوص گروہ یا نظریاتی تنظیم سے منسلک تھے۔