• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عربوں سے جنگ کے پیسے مانگیں گے، امریکا، رجیم چینج ہوچکی، نئی ایرانی قیادت معقول، ٹرمپ

تہران /دبئی(اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بتایاہے کہ صدر ٹرمپ ایران جنگ کے اخراجات کی ادائیگی کے لیے عرب ممالک سے مطالبہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ‘یہ آئیڈیا ان کے ذہن میں ہے اوراس بارے میں مزید تفصیلات صدر ٹرمپ خود دیں گے‘ٹرمپ نے ایران میں فوج بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کیا تاہم سفارت کاری اب بھی ٹرمپ کی پہلی ترجیح ہے‘اگر ایران اس موقع کو رد کرتا ہے تو امریکی فوج تیارہے ۔تہران کے ساتھ بات چیت اچھی جارہی ہے ‘ایران نے نجی طور پر واشنگٹن کے کچھ نکات سے اتفاق کیا ہے ‘دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیوکا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو اس امکان کے لیے تیار رہنا ہوگا کہ مذاکرات ناکام بھی ہو سکتے ہیںجبکہ صدرٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں رجیم چینج (حکومت کی تبدیلی )کا مقصد حاصل کر لیا ہے‘اب واشنگٹن ایران میں ایک نئی اور زیادہ معقول قیادت کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہےجس میں بہترین پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ معاہدے میں تاخیر ہوئی اور آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران میں خارگ جزیرے ‘بجلی گھر‘ تیل کے کنویں اور پانی صاف کرنے والے مراکز تباہ کر دیے جائیں گے‘ٹرمپ نے جزیرہ خارگ پر قبضے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایرانی تیل حاصل کر سکتے ہیں‘دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم کیئرا سٹامر نے ایران میں زمینی کارروائی کے لیے برطانوی فوجی بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہماری جنگ نہیں اور ہم اس میں نہیں الجھیں گے۔اسپین نے ایران جنگ میں شامل امریکی طیاروں پر اپنی فضائی حدود بند کر دی جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے امریکا کی تجاویز موصول ہوئی ہیںجو حد سے زیادہ ‘نامعقول اور غیر حقیقت پسندانہ ہیں ‘ ہم فوجی جارحیت کی زد میں ہیں لہٰذا ہماری تمام کوششیں اور طاقت اپنا دفاع کرنے پر مرکوز ہیں،ایران کے پارلیمانی کمیشن نے نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس لگانے کی منظوری دیدی ہے،‘ایران کی پارلیمنٹ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے ممکنہ علیحدگی کا جائزہ لے رہی ہے تاہم انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ تہران نے نہ تو کبھی جوہری ہتھیاروں کی کوشش کی ہے اور نہ ہی کرے گا۔ان کا مزیدکہناتھاکہ پاکستان میں جو ملاقاتیں ہو رہی ہیں وہ ایسے فریم ورک کے تحت ہیں جو انہوں نے خود بنایا ہے اور ایران اس میں شامل نہیں ہوا۔ جنگ سے خلیجی ممالک پر معاشی دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔اردن نے سرکاری عمارات میں ایئر کنڈیشنر کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ملک کے وزیر اعظم جعفر حسن نے ایک ہدایت نامہ جاری کیا جس کے تحت سرکاری گاڑیوں کا استعمال بھی محدود کیا جا رہا ہے اور دو ماہ تک سرکاری وفود اور کمیٹیوں کے بین الاقوامی دوروں پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔ اسرائیلی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ شروع ہونےکے بعد سے اب تک اسرائیل میں چھ ہزار سے زیادہ افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے۔وزارت نے مزید کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر کے ہسپتالوں میں 232 زخمی لائے گئے۔ عرب امارات نے 24گھنٹوں کےدوران 11 میزائل اور 27 ڈرون روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید