لاہور(اپنے نامہ نگار سے) پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چینی کے شعبہ کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے، پاکستان اربوں ڈالر کما سکتا ہے۔ چیئرمین پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن ذکا اشرف نے کہا ہے کہ شوگر انڈسٹری پاکستان کی دوسری بڑی صنعت ہے جو ٹیکسٹائل کے بعد زرعی بنیادوں پر قائم ہوئی، جبکہ یہ ملک کی سب سے زیادہ ریگولیٹڈ انڈسٹری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی پیداوار کا 70 فیصد صنعتی استعمال میں آتا ہے اور شوگر انڈسٹری بیگاس کے استعمال سے مقامی توانائی پیدا کر رہی ہے جس سے اضافی بجلی حاصل ہو رہی ہے اور متوازن اسٹیل انڈسٹری کے قیام میں بھی مدد ملی ہے۔ پاکستان کی شوگر انڈسٹری بغیر اضافی سرمایہ کاری کے 13 ملین میٹرک ٹن چینی پیدا کر سکتی ہے جبکہ ہر سال 6 ملین میٹرک ٹن چینی برآمد کی جا سکتی ہے جس سے پاکستان 4 ارب ڈالر کما سکتا ہے۔ مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےذکا اشرف نے کہا کہ اگر حکومت انڈسٹری کے مشورے پر عمل کرتی تو چینی کی قیمت نہ بڑھتی، جبکہ ساڑھے 3 لاکھ ٹن چینی امپورٹ کرنے سے مسائل پیدا ہوئے۔ انڈسٹری کے اخراجات کو مدنظر نہیں رکھا جاتا حالانکہ شوگر سیکٹر کو کسانوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے رکن محمد رفیق نے کہا کہ حکومت شوگر انڈسٹری کو مؤثر پالیسیاں نہیں دے سکی جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں پیداواری لاگت 10 سے 15 فیصد زیادہ ہوئی ہے۔ اگلے تین سالوں میں پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا چینی بنانے والا ملک بن سکتا ہے اور ملک سالانہ 6 لاکھ ٹن ایتھنول تیار کر کے برآمد کر رہا ہے۔