• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ خارگ جزیرےکی دھمکی دیکر ایران سے کیا حاصل کر سکتے ہیں؟

پیرس(اے ایف پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارروائیوں کا محورایران کی تیل کی صنعت کا مرکزخارگ ہے،اور اس جزیرےکی دھمکی دیکر ٹرمپ کیا حاصل کر سکتے ہیں؟ فرانسیسی تحقیقی مرکز FMES کے پیئر رازوک کا کہناہےٹرمپ کے جنگی اہداف اب بھی مبہم ہیں، اس دھمکی کا مقصد ایران کوآبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر مجبور کرنا ،حکومتی تبدیلی ،جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام پر دباؤ ہوسکتاہے۔ اسکاٹ لینڈ یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز کے پروفیسر فلپس او برائن کا اس حوالے سےکہناہےکہجزیرہ خارگ پر قبضہ کرنا اور اور اس قبضے کو برقرار رکھنا دو الگ باتیں ہیں،امریکی فوج کیلئے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں رہ کر خارگ پر قبضہ برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ تفصیلات کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روزایران کو جنگ خاتمے کے معاہدے پر راضی نہ ہونے کی صورت میں جزیرہ خارگ کو مکمل ملیامیٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نےزمینی کارروائی کے ذریعے اس جزیرے پر بآسانی قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا،اگر وہ اس مقام پر دباؤ بڑھاتے ہیں تو ایران کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟ امریکی بینک جے پی مورگن کی ایک رپورٹ کے مطابق خارگ ایرانی ساحل سے30 کلومیٹر دور اور آبنائے ہرمز سے 500کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع اس جزیرے پر تیل کا کوئی کنواں نہیں ہے۔
اہم خبریں سے مزید