کراچی( اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ گزشتہ 12برس میں نا اہل اور ناکام ادارہ ثابت ہوا ہے، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے 2014میں اپنے اتحادیوں کے گٹھ جوڑ سے کے ایم سی، ٹاؤن اور یوسی کے تحت چلنے والے محکمہ صفائی کے پورے نظام کو تو اپنے قبضے میں لے لیا لیکن بد ترین نا اہلی و بد انتظامی اور کرپشن کے باعث کارکردگی صفر رہی جس کے باعث آج 12سال بعد بھی کراچی کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے اور اہل کراچی پیپلز پارٹی کے اس کراچی دشمن فیصلے کی سزا بھگت رہے ہیں، قابض میئر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے چیئر مین ہیں اور ان کی سرپرستی میں ادارے کا سالانہ 43ارب روپے کا بجٹ نا اہلی اور کرپشن کی نذر ہو رہا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو ختم کرکے اختیارات نچلی سطح پر ٹاؤن اور یوسیز کو منتقل کیے جائیں، کچرا اُٹھانے کے نئے معاہدے ٹاؤن کے ساتھ کیے جائیں، ٹھیکیداروں کی موجودہ ادائیگیاں ٹاؤن چیئر مین کی تصدیق سے کی جائیں، ادارے کا 12سالہ فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور بلدیہ کراچی کو ملنے والے میونسپل یوٹیلیٹی سروسز ٹیکس (M.U.C.T) کے اربوں کا بھی حساب دیا جائے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں جماعت اسلامی کے ٹاؤن و یوسی چیئر مینوں اور اراکین سٹی کونسل کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی 18سال سے سندھ پر حکومت کر ہی ہے اور اس نے کراچی کے اداروں اور وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے، کراچی کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے، شہریوں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں، شہر کا پورا انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے اور شہری پانی، ٹراسپورٹ، سڑکوں کی خستہ حالی، صفائی ستھرائی کے سنگین مسائل کا شکار ہیں، پیپلز پارٹی آئین کے آرٹیکل 140-Aکے تحت نچلی سطح پر بلدیاتی اداروں کو اختیارات و وسائل دینے پر تیار نہیں ہے۔