• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

متوفی کوٹہ پر درخواست گزار کو تقرری لیٹر جاری کرنے کا حکم

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ بلدیات میں متوفی کوٹہ پر ملازمت فراہم نہ کرنے کے خلاف درخواست پر درخواست گزار کو ایک ماہ میں تقرری کا لیٹر جاری کرنے کا حکم دیدیا۔ ہائی کورٹ میں محکمہ بلدیات میں متوفی کوٹہ پر ملازمت فراہم نہ کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار کے والد محکمہ بلدیات میں دوران ملازمت انتقال کرگئے تھے۔ درخواست گزار زین احمد کی جانب سے 2020 میں مرحوم کوٹہ پر ملازمت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ درخواست گزار کی طلب کی گئی جونیئر کلرک کی آسامی خالی نہیں ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سندھ سول سرونٹس رولز 1974 کے تحت درخواست گزار کو متوفی کوٹہ پر ملازمت کا حق حاصل تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ کوٹہ ختم کیا جاچکا ہے۔ طے شدہ اصول ہے کہ ایسے حقوق جو پہلے ہی پیدا ہوچکے ہوں، وہ ختم نہیں ہوتے۔ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق ملازمت کا حق والد کی وفات کے وقت ہی پیدا ہو جاتا ہے۔ بعد میں قانون میں تبدیلی اس حق کو متاثر نہیں کرتی۔ قانون کے تحت گریڈ 1 سے 11 تک کسی بھی مناسب آسامی پر تقرری کی جا سکتی ہے۔ موزوں اسامی فراہم کرنا محکمہ کی ذمہ داری ہے۔ متعلقہ محکمہ ایک ماہ میں درخواست گزار کو مناسب اسامی پر تقرری کا لیٹر جاری کرے۔ محکمہ کی جانب سے چھ برس تک درخواست پر فیصلہ نا کرنا ناقابل قبول ہے۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید