کوئٹہ (پ ر) بلوچستان ڈیلی نیوز پیپرز ایڈیٹر کونسل کا غیر معمولی اجلاس کوئٹہ پریس کلب میں ہوا جس میں تمام ممبرز پبلیکشنز نے شرکت کی ۔ اجلاس میں بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کو درپیش صورتحال کا جائزہ لیا اور حکومت اور پریس کے تعلقات پر غور کیا گیا ۔ اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت جو ڈیجیٹل پالیسی لارہی ہے وہ اس کی اپنی پالیسی ہے لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ اس ضمن میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا نہ ہی ان سے تجاویز طلب کی گئیں ، اگر یہ اطلاعات درست ہیں کہ پرنٹ میڈیا کے بجٹ میں کٹوتی کرکے اس کا بڑا حصہ سوشل میڈیا کیلئے مختص کیا جا رہا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک اور باعث تشویش صورتحال ہے اگر حکومت سوشل میڈیا کی سرپرستی کرنا چاہتی ہے تو یہ اس کا حق ہے مگر پرنٹ میڈیا کی حق تلفی کرکے سوشل میڈیا کی سرپرستی قابل قبول نہیں ، حکومت سوشل میڈیا کیلئے علیحدہ بجٹ مختص کرے کیونکہ پرنٹ میڈیا پہلے سے گوناگوں مسائل کا شکار ہے اس میں استعمال ہونے والا تمام میٹریل امپورٹڈ ہے جس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں خاص طور پر حالیہ جنگ کی وجہ سے نیوز پرنٹ کا حصول تقریبا ناممکن ہوگیا ہے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی سے اپیل ہے کہ وہ اس کا معاملہ کا ذاتی نوٹس لے کر پرنٹ میڈیا کو ختم ہونے سے بچائیں کیونکہ دیگر صوبوں کی حکومتیں پرنٹ میڈیا سے بھرپور تعاون کررہی ہیں ۔ اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت بلوچستان اپنی مجوزہ یا ممکنہ پالیسی پر نظرثانی کرے پرنٹ میڈیا کو کیٹیگرائز کرے اور جو پڑھے جانے والے اخبارات ہیں ان کو میرٹ پر اشتہارات کا اجراءکرے ، اجلاس میں کہا گیا کہ کونسل یہ واضح کرتی ہے کہ اکثر رکن مطبوعات ڈیجیٹل ہوچکی ہیں ان کے ویب سائٹس اور ای پیپرز موجود ہیں جبکہ یہ بات ثابت ہے کہ پرنٹ میڈیا کی خبریں مستند اور درست ہوتی ہیں اور بلوچستان کے پریس نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے اس برعکس سوشل میڈیا افواہ سازی کا مرکز ہے لہذا حکومت 90 سال سے قائم قدیم شعبہ پرنٹ میڈیا کو ختم ہونے سے بچائے ۔ اجلاس کی صدارت انور ساجدی نے کی جبکہ اجلاس میں روزنامہ جنگ کے سید خلیل الرحمٰن ، ایکسپریس کے رضا الرحمان ،92نیوز کے خلیل احمد ، بلوچستان نیوز کے انور ناصر ، ہمت کے نادر زمرد ، روزنامہ آزادی کے آصف بلوچ اور دیگر اراکین نے شرکت کی ۔