اسلام آباد:(تبصرہ: انصار عباسی)…دنیا میں امن کو ایک نیا محافظ مل گیا ہے اور اس کا نام پاکستان ہے۔ بدھ کی علی الصبح اعلان کردہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ درحقیقت پاکستان کیلئے ایک قابلِ فخر لمحہ ثابت ہوا، کیونکہ ملک نے کامیابی کے ساتھ دونوں فریقین کو ایک ایسا تنازع طے کرنے کیلئے پیش رفت پر آمادہ کیا جس کے سائے نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پوری دنیا کو پریشان رکھا۔
فریقین کے درمیان براہِ راست مخاصمت کو روکنے اور مسلسل سفارت کاری کیلئے راستہ ہموار کرنے والے اس معاہدے کو دنیا بھر میں خاموش سفارت کاری کی کامیابی سمجھا اور اسے سراہا جا رہا ہے۔
اس کامیابی کا مرکز پاکستان ہے، جس کی سول اور عسکری قیادت نے پسِ پردہ اور کھل کر، دونوں سطحوں پر انتھک محنت کرتے ہوئے دو ایسے حریفوں کے درمیان پل کا کردار ادا کیا جو عرصہ دراز سے عدم اعتماد کا شکار رہے ہیں۔
پاکستان کو یہ وضاحت دینے کی ضرورت نہیں کہ اس نے کیا کردار ادا کیا، کیونکہ عالمی میڈیا اور دنیا کے دارالحکومت پہلے ہی بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام آباد نے کس خلوص اور دانشمندی کے ساتھ دن رات عالمی امن کیلئے کام کیا، ایسے ماحول میں جہاں پاکستان کی ثالثی کو سبوتاژ کرنے کیلئے عناصر پہلے ہی سرگرم تھے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بے باک اور اصولی اسٹیٹس مین شپ کیلئے عالمی سطح پر تحسین اور قوم کی گہری ترین قدردانی کے مستحق ہیں، جنہوں نے جرات مندانہ اور اصولی قیادت کا مظاہرہ کیا۔
جیسے ہی کشیدگی میں اضافہ ہوا، اسلام آباد نے خود کو بیک چینل مذاکرات کیلئے ایک غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد مقام کے طور پر پیش کیا۔ پاکستان نے نہ صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل کرتے ہوئے تحمل اور باہمی مفاد کا پیغام پہنچایا، بلکہ چین، سعودی عرب، ترکی اور دیگر اہم علاقائی ممالک کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں رہا۔
جہاں کچھ عناصر پاکستان کو جنگ میں گھسیٹنے کے خواہش مند تھے، وہیں اسلام آباد کا تباہی کے بجائے مذاکرات پر غیر متزلزل اصرار ہی تھا جس نے ایسے وقت میں بھی رابطوں کے دروازے کھلے رکھے جب دنیا بدترین صورتحال کے خدشات سے دوچار تھی۔
پاکستان کی سفارتی تاریخ میں اس بات کی نظیر نہیں ملتی جو اس قیادت، یعنی وزیرِاعظم، وزیرِ خارجہ اور فیلڈ مارشل نے اب قائم کی ہے۔ حتیٰ کہ کوئی دوسرا ملک بھی وہ حاصل نہ کر سکا جو پاکستان نے عالمی امن کیلئے انجام دیا ہے۔
پاکستان کی اس منفرد حیثیت پر دونوں فریقین کو اعتماد حاصل ہے اور اس کے بغیر یہ جنگ بندی اتنی تیزی سے ممکن نہ ہو پاتی۔ پاکستان نے وہ کچھ دیا جو کسی اور جگہ دستیاب نہ تھا: بغیر کسی شرط کے اعتماد، بغیر انا کے ثالثی، اور امن میں حقیقی دلچسپی کیونکہ علاقائی تنازع کی سب سے بھاری قیمت ہمیشہ خود پاکستان نے ہی ادا کی ہے۔
جس وقت دنیا شدید کشیدگی کے ہفتوں بعد اب سکھ کا سانس لے رہی ہے، پاکستانیوں کیلئے فخر محسوس کرنے کی ہر وجہ موجود ہے۔ یہ جنگ بندی سفارت کاری کی کامیابی ہے، تحمل کی کامیابی ہے، اور سب سے بڑھ کر پاکستان کی بالغ النظری اور متحد سول عسکری قیادت کی کامیابی ہے۔
یہ سرخیوں کیلئے کی جانے والی ثالثی نہیں بلکہ تجاویز کی توثیق، حملوں میں وقفے پر زور دینا، اور دونوں فریقین کو توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے سے باز رکھنے کیلئے قائل کرنے کیلئے خاموش، مسلسل پس پردہ کوشش تھی۔ جیسا کہ کسی نے کہا، ’’جب سب جنگ کی بات کر رہے تھے، پاکستان اسے روکنے کی بات کرتا رہا۔‘‘