• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد میں تاریخی دن، ایران امریکا مذاکرات آج، دونوں وفود کی آمد

اسلام آباد/تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک/ رانا غلام قادر/رفیق مانگٹ ) اسلام آبادمیں تاریخی دن ‘امریکا اور ایران کے مابین امن معاہدے پر مذاکرات آج ہوں گے جس میں شرکت کیلئے ایران کا وفد اسپیکر ایرانی پارلیمان محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پاکستان پہنچ گیا ہے ‘ وفدمیں وزیر خارجہ عبا س عرا قچی بھی شامل ہیں‘ دفتر خارجہ کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر‘نائب وزیراعظم اوروزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈاراوراسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وفدکا پرتپاک استقبال کیا۔ ایرانی وفد کو نہایت سخت سکیورٹی میں اسلام آباد پہنچایا گیا۔پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے ایرانی وفد کے جہاز کو نور خان بیس تک اسکواڈ کیا جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیووٹکوف بھی اسلام آباد پہنچ چکےہیں ۔ ادھرامریکا کے صدرڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس آبنائے ہرمزکے سواکوئی کارڈنہیں ‘ ایرانیوں کے زندہ رہنے کی واحد وجہ مذاکرات کرنا ہے‘ہم اپنے بحری جہازوں کو بہترین ہتھیاروں سے لیس کر رہے ہیں ‘اگر ہمارا معاہدہ نہ ہوا تو پھر ہم ان ہتھیاروں کو استعمال کریں گے‘ہمارا واسطہ ایسے لوگوں سے پڑاہے جن کے بارے میں ہمیں یہ تک معلوم نہیں کہ وہ سچ بولتے بھی ہیں یا نہیں‘ وہ ہمارے سامنے کہتے ہیں ایٹمی ہتھیار ختم کررہےہیں باہر جاکربولتے ہیں یورینیم افزودگی کرنا چاہتے ہیں ‘ دیکھیں کیا ہوتاہے ‘بات چیت کامیاب ہوگی یا نہیں 24گھنٹے میں پتہ چل جائے گا‘ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی نقل و حمل کے معاملے میں بہت خراب کام کر رہا ہے۔یہ وہ معاہدہ نہیں جو ہمارے درمیان طے ہوا تھا۔ دوسری جانب نائب صدرجے ڈی وینس نے اسلام آباد روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہم مذاکرات کے منتظر ہیں‘ توقع ہے کہ ایرانی قیادت نیک نیتی سے بات چیت کریگی تاہم انہوں نے تہران کو خبردار کیا کہ وہ امریکا کے ساتھ کھیل نہ کھیلے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اسلام آباد مذاکرات کے لیے نامزد ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے بات چیت سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ دونوں معاملات پر فریقین کے مابین پہلے ہی اتفاق ہوچکا تھا ‘ شرائط پوری نہ ہوئیں تو مذاکرات شروع نہیں ہوں گےجبکہ پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کی مکمل پابندی کر رہے ہیں اور انہوں نےاس دوران کسی ملک پر حملہ نہیں کیا۔ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔ برطانیہ کی وزیرخارجہ یوویٹ کوپرکاکہنا ہے کہ عالمی آبی راستوں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول نہیں کیا جا سکتاجبکہ برطانیہ کے وزیر اعظم کیئراسٹارمرنے خلیجی دورے کے اختتام پر اپنے بیان میں کہاہے کہ خلیجی رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ دفاع کے موضوع پر بھی بات چیت کی‘ آبنائے ہرمزمیں ٹول ٹیکس یا گزرگاہ پر پابندیاں قابلِ قبول نہیں ہوں گی ۔جمعہ کو نیویارک پوسٹ کو انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امن مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ ایران کی مکمل تباہی کے لیے تیار ہے۔ صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکی جنگی جہازوں کو جدید ترین اور بہترین ہتھیاروں سے لیس کر دیا گیا ہے۔ہم اپنے جہازوں پر وہ بہترین ہتھیار لوڈ کر رہے ہیں جو انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں بنے، یہ ہتھیار اس سطح کے ہیں جو دشمن کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ اگر ہفتے کے روز کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو امریکا ان ہتھیاروں کا انتہائی موثر استعمال کرے گا۔ایرانی قیادت کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں آپ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ سچ بول رہے ہیں یا نہیں۔ اگلے 24 گھنٹوں میں صورتحال بالکل واضح ہو جائے گی کہ خطہ امن کی طرف جائے گا یا مزید تباہی کی طرف۔بعدازاں سوشل میڈیا پر اپنے بیان امریکی صدر نے کہا کہ ایرانیوں کے زندہ رہنے کی واحد وجہ مذاکرات کرنا ہے۔ ایرانیوں کے پاس بین الاقوامی آبی گزر گاہوں پر مختصر وقت کے لیے بھتہ وصولی کے علاوہ کوئی کارڈ نہیں ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکروں سے فیس وصول کر رہا ہے۔ایران کو ایسا نہیں کرنا چاہیے اور اگر وہ کر رہے ہیں تو فوراً بند کر دیں۔ دوسری جانب محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ فریقین کے مابین باہمی طور پر طے پانے والے دو معاملات پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔لبنان میں جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز سے قبل ایران کے اثاثوں کی بحالی پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا۔مذاکرات شروع ہونے سے پہلے یہ دونوں معاملات حل ہونے چاہئیں ۔علاوہ ازیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات میں شرکت کے لیےایئرفورس ٹو میں پاکستان روانہ ہوگئے ہیں‘روانگی سے قبل اینڈریوز ایئربیس پر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھاکہ ہم مذاکرات کے منتظر ہیں‘انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مذاکرات مثبت رہیں گے۔اگر ایران خیرسگالی کا مظاہرہ کرتا ہے تو امریکا کھلے دل سے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہےاوراگر ایران نے ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی تو امریکا مثبت ردعمل نہیں دے گا۔جے ڈی وینس کے مطابق صدر ٹرمپ نے انہیں مذاکرات کے لیے رہنما اصول فراہم کیے ہیں۔ لبنان کے صدارتی دفتر کے ایک سینئراہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ اگر پہلے جنگ بندی نافذ ہو جائے تو لبنان آئندہ ہفتے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ اہلکار کے مطابق ملاقات کی تاریخ اور وقت کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔دریں اثناءایران کے نائب وزیرخارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں تاوقتیکہ وہ کوئی دشمنی پر مبنی طرز عمل اختیار نہ کریں ۔ خطیب زادہ نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے تاہم تکنیکی وجوہات کے باعث جہازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایرانی افواج کے ساتھ رابطہ رکھیں۔برطانوی وزیراعظم کے دفترکے مطابق کیئر اسٹارمر اورصدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے کسی حل تک پہنچنے کے عمل کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں ۔اس کے علاوہ دوحا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹارمرکاکہناتھاکہ نیٹوکا قائم رہنا امریکا اور یورپ کےمفادمیں ہے ‘نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے جس نے دہائیوں سے ہمیں محفوظ رکھا ہوا ہےتاہم انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ یورپی ممالک کو اس اتحاد کے مالی اخراجات میں اپنا حصہ بڑھانا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ برطانیہ 30 سے زائد ممالک پر مشتمل ایک ایسا اتحاد تشکیل دے رہا ہے جو سفارتی اور فوجی ذرائع سے اس اہم بحری گزرگاہ کو جہاز رانی کے لیے بحال کرنے پر کام کرے گا۔اپنے بیان میں برطانوی وزیراعظم نے عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے اقدامات کو اس بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے تنگ آ چکے ہیں کہ عام خاندانوں اور کاروباری اداروں کو پیوٹن یا ٹرمپ کے فیصلوں کی وجہ سے بجلی اور گیس کے مہنگے بلوں کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایران میں پاسدارانِ انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق ذرائع نے اسے بتایا کہ جب تک امریکہ لبنان پر اسرائیلی حملے رکوانے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا تب تک مذاکرات معطل رہیں گے جبکہ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی نہیں ہوئی ہے‘ ہم حزب اللہ پر پوری طاقت کے ساتھ حملے کر رہے ہیں اور عوام کی سکیورٹی بحال ہونے تک رکیں گے نہیں۔ادھرایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے زور دے کر کہا ہے کہ ان کا ملک سفارت کاری کا خیر مقدم کرتا ہے لیکن ایسے مذاکرات کا نہیں جو دشمن کو نئے حملے کی تیاری کا موقع فراہم کریں۔ہم ایسی جنگ بندی نہیں چاہتے جو دشمن کو دوبارہ مسلح ہونے کی اجازت دے۔

اہم خبریں سے مزید