یروشلم/قاہرہ ( جنگ نیوز) —ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ “بورڈ آف پیس” کو غزہ کے لیے وعدہ کیے گئے 17 ارب ڈالر میں سے نہایت کم رقم موصول ہوئی ہے، جس کے باعث امریکی صدر اپنے تباہ حال فلسطینی علاقے کے مستقبل سے متعلق منصوبے کو آگے بڑھانے سے قاصر ہیں۔ بحالی پر70ارب ڈالرلاگت آئیگی،17ارب ڈالر کے وعدے ہوئے جمع ایک ارب ڈالربھی نہ ہوسکے،جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں 700شہید ہوگئے ہیں، مذاکرات میں حماس نے غزہ کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کیNSCGکے سپرد کرنے پر آمادگی ظاہر کردی تھی تاہم اب اسرائیل حماس سے پہلے ہتھیار پھینکنے کی نئی شرط عائد کررہا ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایران جنگ سے قبل غزہ کے لیے اربوں ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ذرائع کے مطابق بہت کم ممالک نے حقیقتاً رقم فراہم کی ہے۔ اس مالی کمی کے باعث فلسطینی انتظامی کمیٹی ابھی تک غزہ میں داخل نہیں ہو سکی۔امریکا-اسرائیل کے ایران پر حملوں سے دس دن قبل، ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک کانفرنس کی میزبانی کی تھی، جہاں خلیجی عرب ممالک نے اسرائیلی حملوں سے دو سال تک تباہ رہنے والے غزہ کی تعمیر نو اور حکمرانی کے لیے مالی تعاون کا وعدہ کیا تھا۔اس منصوبے کے تحت، فلسطینی مزاحمتی تنظیم Hamas کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی افواج کے انخلا کے بعد غزہ کی بڑے پیمانے پر تعمیر نو کی جانی تھی۔ان وعدوں کا مقصد ایک نو قائم شدہ ادارے — “نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG)” — کی سرگرمیوں کو بھی فنڈ فراہم کرنا تھا، جو امریکی حمایت یافتہ فلسطینی ماہرین پر مشتمل ایک گروپ ہے اور جسے حماس سے غزہ کا کنٹرول سنبھالنا تھا۔