اسلام آباد (اے ایف پی)تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد عالمی سفارتکاری کا مرکز بن گیا، عالمی طاقتیں پاکستان کی ثالثی پر متفق، پاکستان، مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کیلئے کوشاں ہے۔پاکستان ،چین اور امریکا کے کردار نے عالمی سیاست کو نئی سمت دےدی ہے پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرنے والا ہے، جس کا مقصد دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی کو ایک مستقل امن میں تبدیل کرنا ہے، اس جنگ نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ 28فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ مہلک حملے کیے، جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای شہید ہوئے اور ایران کے فوجی و جوہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا اور امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق پانچ ہفتوں میں ایران میں 3,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔تہران نے جواباً آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا، جس سے عالمی تیل و گیس کی تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، نتیجتاً توانائی کی قیمتیں بڑھ گئیں اور عالمی تجارت متاثر ہوئی۔8 اپریل کو امریکہ اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا، جو 22 اپریل کو ختم ہونے کی توقع ہے۔