کراچی(سید محمد عسکری) شاہ عبداللطیف یونیورسٹی میں ضابطگیوں اور جعلی ڈگریوں کے معاملے پر انتظامیہ نے سخت اور غیر معمولی اقدامات کرتے ہوئے کنٹرولر سمیت سات افسران و ملازمین کو معطل کر دیا ہے جبکہ ان کے یونیورسٹی میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلے سنڈیکیٹ کے 92ویں اجلاس اور انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کئے گئے، جن کے تحت ضابطہ جاتی کارروائی کو مزید وسعت دی گئی ہے۔ معطل کئے گئے افراد میں سیف الدین پٹھان، اعجاز احمد سومرو، راحب علی پھلپوٹو، گلزار احمد کھیمٹیو، محمد راحیل مہر، غلام مصطفیٰ لارک اور حبدار علی پھلپوٹو شامل ہیں انتظامیہ کے مطابق معطلی کے دوران متعلقہ افراد کسی بھی سرکاری سرگرمی یا اجلاس میں شرکت کے مجاز نہیں ہوں گے، تاہم وہ مجاز اتھارٹی سے پیشگی اجازت کے بعد پیش ہو سکیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد کے خلاف باقاعدہ چارج شیٹس بھی جاری کی جائیں گی۔ ادھر انتظامی ردوبدل کے تحت نذیر احمد پھلپوٹو کو ناظم امتحانات جبکہ عاشق حسین کو کمپیوٹر سیل کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ امتحانی اور تکنیکی نظام میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی یونیورسٹی انتظامیہ 120 سے زائد مشتبہ جعلی ڈگریوں کے اجرا یا تصدیق کے معاملات میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کرا چکی ہے۔ تازہ اقدامات کے بعد انکوائری کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ ذمہ داران کا مکمل تعین کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ڈگریوں کے اجرا سے متعلق معاملات کی تحقیقات کے بعد عمل میں لائی گئی ہیں اور تمام اقدامات متعلقہ قوانین، خصوصاً ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن (E&D) رولز کے تحت کئے جا رہے ہیں۔ متعلقہ ملازمین کو صفائی کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ سنڈیکیٹ اجلاس میں ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر یونیورسٹی کے قیام سے اب تک کے امتحانی و انتظامی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کی اصولی منظوری بھی دی گئی۔ منصوبے کے تحت ریکارڈ کو محفوظ ڈیجیٹل اور کلاؤڈ نظام پر منتقل کیا جائے گا تاکہ شفافیت، نگرانی اور ریکارڈ کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ احتسابی عمل کے باوجود تدریسی اور امتحانی سرگرمیاں متاثر نہیں ہونے دی جائیں گی اور طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے عبوری انتظامات نافذ کر دیئے گئے ہیں۔