• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججوں کو صوبائی ہائیکورٹس کی علاقائی بنچوں میں تبادلہ کئے جانے کا امکان

انصار عباسی

اسلام آباد:…اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کے مجوزہ تبادلے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، کیونکہ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جس منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے اس کے مطابق ٹرانسفر کیے جانے والے ججوں کو متعلقہ ہائی کورٹس کی مرکزی نشستوں کے بجائے علاقائی بنچوں میں تعینات کیا جائے گا۔ باخبر ذرائع کے مطابق، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جن پانچ ججز کے تبادلے پر غور کیا جا رہا ہے، انہیں ملک بھر میں مختلف بیرونی بنچوں پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی، جنہیں لاہور ہائی کورٹ ٹرانسفر کرنے کی تجویز ہے، کو ملتان یا بہاولپور بنچ میں تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی طرح جسٹس بابر ستار، جنہیں پشاور ہائی کورٹ ٹرانسفر کیلئے غور کیا جا رہا ہے، کو بنّوں بنچ میں تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔ مجوزہ فہرست میں شامل دیگر ججوں میں جسٹس ارباب ایم طاہر، جنہیں بلوچستان ہائی کورٹ کیلئے تجویز کیا گیا ہے، جسٹس سمن رفعت امتیاز سندھ ہائی کورٹ کیلئے، اور جسٹس خادم حسین سومرو، جو سندھ ہائی کورٹ کیلئے ہی زیرِ غور ہیں، شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اگر یہ تبادلے ہوئے تو ان ججوں کو بھی متعلقہ ہائی کورٹس کے علاقائی بنچوں میں تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عدالتی اور قانونی حلقوں میں ان مجوزہ تبادلوں کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے مبینہ طور پر اس اقدام کی مخالفت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے عدالتی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے اور ایک ناپسندیدہ مثال قائم ہو سکتی ہے۔ یہ تجویز اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی جانب سے سامنے آئی، جنہوں نے ان تبادلوں پر غور کیلئے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی تھی۔ اگرچہ چیف جسٹس آف پاکستان نے خود اجلاس بلانے سے انکار کیا، تاہم کمیشن کے پانچ ارکان کی درخواست پر جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹری نے 28؍ اپریل کو اجلاس طلب کیا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق، چونکہ جوڈیشل کمیشن اس معاملے پر منقسم ہے، اس لیے تمام مجوزہ تبادلوں کی منظوری کے امکانات کم ہیں۔ بعض ارکان کا خیال ہے کہ صرف تین ججوں کا تبادلہ ہو سکتا ہے، وہیں حکومت اور قانونی برادری کے بعض حلقوں نے بالخصوص جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس ارباب ایم طاہر کے مجوزہ تبادلوں کی سخت مخالفت کی ہے۔ اس کے برعکس، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس بابر ستار کے تبادلوں کے حوالے سے نسبتاً کم مزاحمت پائی جاتی ہے، جبکہ جسٹس سمن رفعت امتیاز کو بھی ممکنہ امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ تینوں جج اس خط کے دستخط کنندگان میں شامل تھے جو سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا گیا تھا، جس میں عدالتی معاملات میں ریاستی اداروں کی مبینہ مداخلت سے متعلق رہنمائی طلب کی گئی تھی۔ جوڈیشل کمیشن کے آئندہ اجلاس کو ان مجوزہ تبادلوں کی قسمت کے فیصلے کیلئے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، ان ٹرانسفرز کے عدالتی خودمختاری اور ادارہ جاتی سالمیت پر اپنے اثرات کے حوالے سے ایک اہم بحث نے جنم لیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید