کراچی( سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اسناد کی تصدیق کے عمل کو بہتر، آن لائن اور پیپر لیس بنانے اور جامعات کو اس عمل میں تیزی بنانے کے لیے مالی مراعات کا باقاعدہ پیکیج جاری کردیا ہے۔ ملک بھر کی جامعات کے سربراہوں کو لکھے گئے خط میں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا ہے کہ اگر جامعہ 24 گھنٹوں کے اندر دستاویز کی تصدیق مکمل کرے گی تو فی دستاویز 500 روپے ادا کیے جائیں گے، 48 گھنٹوں میں تصدیق پر 300 روپے جبکہ 72 گھنٹوں یا اس سے زائد وقت میں تصدیق پر 100 روپے فیس ادا کی جائے گی۔ تاہم خط میں اس بات کا ذکر موجود نہیں کہ اگر زیادہ وقت گزر جائے اور جامعہ کسی کوتاہی یا ناپسندیدگی کی وجہ سے مطلوبہ سند کی تصدیق نہ کرپائے تو پھر ایچ ای سی اس کے خلاف کیا ایکشن لے گی۔ اسناد کی جلد تصدیق کے نئے طریقہ کار میں تصدیق فیس میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے اور فی دستاویز فیس ایک ہزار سے بڑھا کر 3 ہزار روپے بھی کردی گئی ہے۔ ایچ ای سی کے چیرمین ڈاکٹر نیاز کے مطابق مطابق نیا سندھ کی تصدیق کا آن لائن ڈگری نظام باقاعدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت امیدوار چوبیس گھنٹے آن لائن درخواست جمع کرا سکیں گے جبکہ تصدیق شدہ ای اٹیسٹیشن سرٹیفکیٹ بھی ڈیجیٹل انداز میں جاری کیا جائے گا، جس کی آن لائن تصدیق بھی ممکن ہوگی۔اس نئے نظام کا مقصد تصدیق کے عمل کو محفوظ، تیز رفتار، شفاف اور صارف دوست بنانا ہے۔ اب امیدواروں کو نہ تو جسمانی طور پر ایچ ای سی دفتر آنے کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی اصل اسناد بذریعہ کورئیر ارسال کرنا ہوں گی۔ چیرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد نے جنگ/دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دستاویزات کی تصدیق کی فیس میں ضرور اضافہ کیا گیا ہے تاہم اس فیس کا کچھ حصہ متعلقہ جامعہ کو بھی دینا ہے جب کہ اس نئے نظام میں اب اصل اسناد کے ہمراہ ایچ ای سی کے دفتر آنے کی ضرورت ہی نہیں ہے اور خصوصا دور دراز سے آنے والے کو اپنے خاندان کے ہمراہ ہزاروں روپے خرچ کر کے آنا پڑتا تھا پھر وہ سند کی تصدیق کے پیسے اس کی فوٹو کاپی کے پیسے دینے پڑتے تھے جب کہ اس سے پہلے وہ اسناد کی تصدیق مطلوبہ جامعہ سے کراکے آتے تھے اور وہاں بھی معقول فیس ادا کرتے تھے چناچہ اب تصدیق کے اس نئے نظام میں صرف تین ہزار روپے میں ان کا سب کام ہورہا ہے جس میں کچھ حصہ متعلقہ جامعہ کو بھی جارہا ہے تو میرا خیال یہ ہے کہ اس لحاظ سے یہ معقول فیس ہے جس میں طلبہ کا فائدہ ہے۔