کراچی (اسٹاف رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رواں مالی سال کی آخری مانیٹری پالیسی میں شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ، محاصل کے ہدف میں اس کمی کے باوجود حکومت کو توقع ہے کہ وہ اخراجات کو قابو میں رکھتے ہوئے جی ڈی پی کا 2.5 فیصد سرپلس پرائمری بیلنس حاصل کرلے گی، عمومی مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوا جو مارچ کے 7.3 فیصد کے مقابلے میں اپریل میں بڑھ کر سال بہ سال 10.9فیصد اور مئی میں 11.7 فیصد تک پہنچ گئی، مہنگائی آئندہ چند ماہ تک دہرے ہندسوں میں برقرار رہ سکتی ہے، جسکے بعد اس میں بتدریج کمی کا امکان ہے۔