واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش گوئی کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی‘توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کاررواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید بات چیت کریں گےجبکہ امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس نےذرائع کے حوالے سے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات آج پیر کے روز بھی شروع ہو سکتے ہیں ۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ ایران کو تنہا کرنے کی کوششوں میں کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم نے ایران کو معاشی طور پراکیلا کرنے کے لیے 50 سے زائد ممالک پر دباؤ ڈالا ہے‘ آئندہ چند ہفتوں میں ایران کے پاس تجارت یا بارٹر کے لیےکچھ نہیں بچے گا۔دوسری جانب صدر پزشکیان نے کہاہےکہ امریکا صرف ایران کو مٹانے یا تباہ کرنےکا خواب ہی دیکھ سکتا ہے‘ ایرانی فوج نے خبردارکیاہے کہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ‘ اگر واشنگٹن نے فوجی کارروائی کی تو ایرانی افواج سرپرائز دینے کو تیار ہیں ‘دشمن کو نئی عسکری ٹیکنالوجی سے جواب دیں گے ‘ واشنگٹن جتنی جلدی خطے سے نکل جائے اتنا کم نقصان اٹھائے گا جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہاہے کہ ہماری شرائط واضح ہیں اورہرمز کو دوبارہ کھولنے کی طرف کوئی بھی قدم ان شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے‘ ہم ان شرائط سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ‘ایران جنگ دوبارہ شروع کرنے کیلئے تیار ہے چاہے بات قیامت خیز جنگ تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے‘ہم سفارتکاری کے لیے بھی تیار ہیں‘اب یہ ٹرمپ پر منحصر ہے کہ وہ کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ایرانی اسپیکر محمدباقرقالیباف نےآبنائے ہرمز پر کنٹرول کے امریکی دعوؤں کو کھوکھلا قراردیدیا‘ ادھر عمانی وزیرخارجہ نے پیشکش کی ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مسقط ثالثی کو تیار ہےجبکہ مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے حوثی حملوںکی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ریاستوں کی سلامتی مراکش کی اپنی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔ سعودی عرب پر کوئی بھی حملہ مراکش پر حملہ ہے‘پاسدارانِ انقلاب نے ہرمز میں امریکی جاسوس بحری ڈرون پکڑنے کا دعویٰ کیاہے تاہم واشنگٹن نے اس کی تردید کی ہے جبکہ حوثی ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ یمن پر سعودی فضائی حملوں میں تقریباً 50افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں‘یمنی سرکاری فوج نے دعویٰ کیاہے کہ تعز میں حوثی ٹھکانوں پر میزائل اورڈرون حملوں میں چارایرانی ماہرین مارے گئے ہیں ‘ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے چینی نائب صدر ہان ژینگ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام پر زور دیاجبکہ ایران کی پرشین گلف واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی نے متنبہ کیاہے کہ ہرمز میں غیر منظور شدہ راستے کا استعمال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے لیے فوجی مدد دفاعی نوعیت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس کو ٹیلی فونک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہناتھاکہ مجھے امید ہے کہ ایران کے ساتھ مزید مذاکرات ہوں گے‘وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا معاہدہ نہیں جو میں چاہتا ہوں۔