• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں سجے اپنی نوعیت کے منفرد فیشن شو نے دل جیت لئے

کراچی( اخترعلی اختر )کراچی میں سجا اپنی نوعیت کے منفرد فیشن شونےدل جیت لئے۔فیشن پریزنٹیشنز میں شہر کے نفیس اور دستکاری پر مبنی، تاریخی اور جدید، گلیمرس اور روایتی رنگ نمایاں کئے گئے۔1989 کی دہائی کی سپر ماڈلز فریحہ الطاف، سیمی پاشا اور عاتیہ خان کی ریمپ پر واک، اس دور کو لاجواب خراجِ تحسین پیش کیا۔ تفصیلات کے مطابقیہ ذکر ہے اس رنگین شام کا،جس نے کراچی والوں کے دل جیت لئے۔ پانچ ڈیزائنرز پر مشتمل شاندار رن وے فیشن شو کے ساتھ شام کا آغاز ہوا۔ یہ فیشن شو انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر (IVS) کے تاریخی نُصّروان جی بلڈنگ میں منعقد ہوا۔ اس منفرد فیشن شو میں دیپک پروانی، وردہ سلیم، کھاڈی، دی پنک ٹری کمپنی اور ثنا سفیناز نے اپنی تخلیقات پیش کیں، شو کا اہتمام فرشتے اسلم نے کیا تھا۔جبکہ شو کا آغاز معروف فوٹوگرافر ٹپو جویری کی چار دہائیوں پر محیط آرکائیول نمائش سے ہوا۔ ’’کلیڈوسکوپک کراچی‘‘ کا بنیادی تصور یہ تھا کہ کراچی کو کسی ایک تصویر یا ایک انداز میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ پانچوں فیشن پریزنٹیشنز میں شہر کے نفیس اور دستکاری پر مبنی، تاریخی اور جدید، گلیمرس اور روایتی رنگ نمایاں ہوئے۔ یوں یہ شو کراچی کے مختلف رنگوں اور ایک ایسی فیشن انڈسٹری کی عکاسی کرتا نظر آیا جو اپنی الگ الگ آوازوں کے باوجود اپنی شناخت اور اثر قائم رکھتی ہے۔اس موقع پر بانی اور لاَم فیشن ویک کے شریک بانی سعد علی نے کراچی میں فیشن کے ایک مضبوط ماحولیاتی نظام کی اہمیت پر زور دیا۔سعد علی نے کہا کہ پاکستان کی برانڈ لیڈ فیشن انڈسٹری صرف سال میں دو رن ویس تک محدود نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کے لیے پورے سال جاری رہنے والا ایسا نظام درکار ہے جہاں ڈیزائنرز، برانڈز اور دستکاروں کو اپنی شناخت اور کام کو مستحکم کرنے کے لیے مواقع، مناسب ماحول اور ناظرین میسر آئیں۔ رنگین شام کا آغاز ’’ٹپو جویری اے فور ڈیکیڈ فیشن ریٹروسپیکٹو‘‘ سے ہوا۔ یہ نمائش پاکستان کے معروف فیشن فوٹوگرافر اور کراچی کی بصری تاریخ کو محفوظ کرنے والی اہم شخصیت ٹپو جویری کے وسیع آرکائیو سے ترتیب دی گئی تھی۔نمائش میں پاکستانی فیشن اور کراچی کی کئی دہائیوں پر محیط تصویری یادداشت کٹپو جویری کے کیمرے کے ذریعے پیش کیا گیا، جس نے رن وے شو کے لیے ایک بھرپور تاریخی اور تخلیقی پس منظر فراہم کیا۔ رن وے کا آغاز دیپک پروانی کی کلیکشن ’’کاک ٹیل آور‘‘ سے ہوا، جس میں کراچی کے تاریخی گلیمر کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔1970 کی دہائی کے وسط کے کلب کلچر، رات کی محفلوں اور اس دور کے شہری حسن کو سلیقے سے پیش کیا گیا۔ اس کلیکشن میں نفیس اور دلکش سلیوٹس، چمک، گلیٹر اور ایسے ملبوسات شامل تھے جنہوں نے کراچی کے ماضی کو جدید انداز میں پیش کیا۔اس کلیکشن کی خاص بات یہ تھی کہ 1980 کی دہائی کی سپر ماڈلز فریحہ الطاف، سیمی پاشا اور عاتیہ خان نے ریمپ پر واک کی اور اس دور کو ایک زندہ خراجِ تحسین پیش کیا۔اس کے بعد وردہ سلیم نے ’’بندر روڈ سے کیماڑی‘‘ کے عنوان سے کلیکشن پیش کی، جس میں کراچی کی گلیوں، فن تعمیر اور تاریخی عمارتوں سے متاثرہ انداز نمایاں تھا۔ نوآبادیاتی دور کی عمارتیں، بالکونیاں، شاہانہ نقش و نگار اور شہر کی قدیم یادگاریں اس کلیکشن کا حصہ بنیں۔

اہم خبریں سے مزید