• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان نے افغانستان کی اندرونی جھڑپوں کو اسلام آباد سے جوڑنے کے افغان طالبان کے الزامات مسترد کردیئے

اسلام آباد(رانا غلام قادر، ایجنسیاں) پاکستان نے افغانستان کی اندرونی جھڑپوں کو اسلام آباد سے جوڑنے کے افغان طالبان رجیم کے الزامات مسترد کردیئے، وزارت اطلاعات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو بھرتی کیا نہ داعش یا دیگر دہشت گرد تنظیموں کی مدد کی، الزامات کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے، نہ کسی فرد کی شناخت، دستاویزات یا شواہد دیئے گئے، جبکہ دفتر خارجہ نےافغانستان کو دہشت گرد واقعات پر ڈیمارش کرتے ہوئے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا۔ دفتر خارجہ کا کہناہے کہ پاکستانی حدود میں دہشت گردی کے واقعات اور سرحدی خلاف ورزیوں کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔حالیہ حملوں پر جواب طلب کرلیا، واضح رہے کہ افغانستان کی وزارت دفاع نے الزام لگایا تھا کہ اسکی فورسز نے پاکستان سے سرحد عبور کرنے والے 28جنگجوؤں کو ہلاک اور 32کو زخمی کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان افغان سیکورٹی فورسز یا انٹیلی جنس اداروں کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ وزارت اطلاعات نے کہا کہ سابق افغان سیکورٹی اہلکاروں کو بھرتی یا تربیت دینے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ داعش یا کسی دہشتگرد گروہ کو سہولت فراہم کرنے کے الزامات بھی بے بنیاد ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کیخلاف الزامات کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے اور نہ کسی فرد کی شناخت، دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ یا فورنزک شواہد سامنے آئے ہیں۔وزارت اطلاعات نے کہا کہ سوشل میڈیا کی مبینہ ویڈیو میں چند غیرمسلح افراد دکھائے گئے۔ ویڈیو میں افراد مناسب لباس یا سازوسامان سے بھی لیس نہیں،ویڈیو افغان طالبان رجیم کی جانب سے طے شدہ انداز میں بنائی گئی لگتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی عالمی رپورٹس میں سامنے آئی ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بھی افغان دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزارت اطلاعات نے کہا کہ پاکستان سے تعلق جوڑنے کی کوششیں افغان سرزمین پر دہشتگردوں کی موجودگی نہیں چھپا سکتیں، افغان سرزمین پر دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور سازگار ماحول حاصل ہے۔وزارت اطلاعات نے کہا کہ طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان پر دہشتگردی کی معاونت کا الزام باعثِ حیرت ہے۔ افغانستان سے سرگرم دہشتگرد تنظیمیں پاکستان اور خطے کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ طالبان رجیم کو بے بنیاد الزامات کے بجائے اپنی سرزمین پر دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

اہم خبریں سے مزید