کراچی ( اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ کے ایم سی میں قیمتی جائیدادوں کی لوٹ سیل کے بعد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی زمینوں کی بندر بانٹ کی کوشش اورتیاری شروع ہو گئی ہے اور یہ سارے کام کہیں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اور کہیں شارٹ ٹرم لیز کے نام پر ہو رہے ہیں جو سراسر دھوکا اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش ہے، مرتضیٰ وہاب کے ماتحت ہر محکمہ میں کرپشن اور سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ عروج پر ہے،پیپلز پارٹی کے میئر کا صرف ایک ہی مقصد نظر آتا ہے کہ قیمتی سرکاری جائیدادیں من پسند افراد کو دی جائیں اور اپنی مدت پوری ہونے سے قبل انہیں ٹھکانے لگایا جائے،حیرت ہے کہ کوئی ایجنسی اور قانون نافذ کرنے والا ادارہ اس کا نوٹس نہیں لے رہا، کے ایم سی کے لینڈ ڈیپارٹمنٹ کافر انز ک آڈٹ کرایا جائے،جعلی کاغذات کی تیاری میں ملوث افسران اور غیر سرکاری افراد جو مسلسل کے ایم سی کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں کو تفتیش میں شامل کیا جائے اور اعلیٰ تحقیقاتی ادارے بھرپور کاروائی کرتے ہوئے کے ایم کی کی قیمتی زمینیں جوکراچی کے عوام کی ملکیت ہیں ان کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں، جماعت اسلامی ان مذموم عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی، سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ بڑے پیمانے پر پارکوں کی زمینیں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پر کمرشل استعمال کے لیے اپنے من پسند لوگوں کے حوالے کر دی گئی ہیں جہاں پکی تعمیرات کے بعد بھاری کرائے کے عوض پیڈل کورٹ وغیرہ چلائے جا رہے ہیں، کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس میں بھی یہی ڈرامہ کیا گیا، عباسی شہیداسپتال اور کراچی انسٹیٹیوٹ کے نرسنگ کالج کی عمارات محض سوا لاکھ اور ڈھائی لاکھ کرائے کے عوض نجی پارٹیوں کے حوالے کر دی گئیں۔