• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈسکوز کی نجکاری، سرمایہ کار خطرات بھی پرکھنے لگے

اسلام آباد (تجزیہ/ خالد مصطفیٰ) ڈسکوز کی نجکاری، سرمایہ کار خطرات بھی پرکھنے لگے۔ پاکستانی بجلی کی تقسیم کار کمپنی (ڈسکو) کو خریدنے کے خواہشمند کسی بھی شخص کے لیے، سوال صرف یہ نہیں ہے کہ ڈسکو کی مالیت کتنی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ منافع کی کتنی یقین دہانی جڑی ہوئی ہے۔ کاروباری موقع واضح ہے، مگر خطرہ بھی اتنا ہی نمایاں ہےکے الیکٹرک (کے ای) شاید پاکستان کی کسی بھی ڈسکو کا جائزہ لینے والے سرمایہ کار کے لیے سب سے موزوں مثال ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کے معاملے کے برعکس، ڈسکوز کی نجکاری کا عمل خاصی تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ اس وقت فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کے لیے سرمایہ کاروں کی دلچسپی جانچنے کی غرض سے اظہارِ دلچسپی طلب کیے گئے، جن کے جواب میں بالترتیب 12، 11 اور 10 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ بظاہر یہی وہ صورتحال ہے جو حکومت چاہتی تھی: ایسے قابلِ اعتماد سرمایہ کار جو پاکستان کے بجلی کے بڑے تقسیم کار نیٹ ورکس میں نجی سرمایہ اور انتظامی مہارت لگانے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن دوسری جانب بیٹھا سرمایہ کار صورتحال کو مختلف نظر سے دیکھ رہا ہے۔ وہ صرف یہ نہیں پوچھ رہا کہ ’’اس ڈسکو سے مجھے کتنا منافع حاصل ہو سکتا ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی جاننا چاہتا ہے کہ ’’میری سرمایہ کاری کے بعد کیا کچھ تبدیل ہو سکتا ہے؟‘‘ کے الیکٹرک (کے ای) شاید پاکستان کی کسی بھی ڈسکو کا جائزہ لینے والے سرمایہ کار کے لیے سب سے موزوں مثال ہے۔ پاکستان کی واحد نجی ملکیت اور عمودی طور پر مربوط بجلی کی کمپنی کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ نجی ملکیت نمایاں سرمایہ کاری اور آپریشنل تبدیلی لا سکتی ہے۔ تاہم، اس سرمایہ کاری کے حوالے سے ریگولیٹری معاملات کی بات کی جائے تو صورتحال خاصی پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ ریگولیٹری پالیسی میں تسلسل کسی بھی اثاثے کی قدر کا ایک بنیادی جزو ہے۔ جتنی زیادہ غیر یقینی صورتحال کا خدشہ ہوگا، سرمایہ کار خطرہ مول لینے کے بدلے اتنے ہی زیادہ منافع کا تقاضا کرے گا۔ یوں ریگولیٹری یقین دہانی اور پاکستان کو اپنی ڈسکوز کی فروخت سے ملنے والی قیمت کے درمیان براہِ راست تعلق قائم ہوتا ہے۔ کے الیکٹرک کے ٹیرف کے تجربے کو دیکھیں۔ ایک سرمایہ کار آپریٹنگ اخراجات کو کنٹرول کر سکتا ہے، وصولیوں میں بہتری لا سکتا ہے، بجلی کے نقصانات کم کر سکتا ہے اور نیٹ ورک میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ تاہم، وہ یکطرفہ طور پر اس ٹیرف کا تعین نہیں کر سکتا جس کے ذریعے ان سرمایہ کاریوں کی لاگت پوری کی جائے گی۔ فیصلوں میں تاخیر اور پہلے سے جاری کردہ فیصلوں میں ترامیم اصل فیصلے کی معاشی افادیت کو نمایاں طور پر تبدیل کر سکتی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید