حیدرآباد (رپورٹ/اے بی سومرو) سندھ میں صنفی مساوات کے دعوؤں پر سوالیہ نشان‘ 40لاکھ سے زائد لڑکیاں تعلیم سے محروم‘ خواتین کی شرح خواندگی مردوں سے 21فیصد پوائنٹس کم‘ پولیس میں نمائندگی صرف 4.34فیصد‘ صنفی تشدد کے 3 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں خواتین کو مساوی حقوق‘ تعلیم‘ روزگار اور تحفظ فراہم کرنے کے دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق ایک مختلف تصویر پیش کررہے ہیں جہاں لاکھوں بچیاں اسکولوں سے باہر‘ دیہی خواتین کی بڑی تعداد ناخواندہ اور اہم سرکاری اداروں میں خواتین کی نمائندگی محدود ہے۔ سندھ جینڈر پیریٹی رپورٹ 2023–2024ءکے دستیاب اعداد و شمار نے صوبے میں صنفی مساوات کی صورتحال پر نئے سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ رپورٹ میں بعض شعبوں میں بہتری کے آثار ضرور سامنے آئے ہیں تاہم تعلیم‘ انصاف‘ روزگار اور خواتین کے تحفظ کے میدان میں درپیش رکاوٹیں اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔