کراچی (سید محمد عسکری) سندھ میں رواں سال بھی اپریل سے شروع ہونے والے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات مستقل ناظم امتحانات، سیکریٹریز اور آڈٹ افسران کی عدم تعیناتی کے باعث غیر یقینی صورتحال میں منعقد ہوں گے، جب کہ انتظامی ڈھانچے کی کمزوریوں پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ صوبے بھر میں میٹرک اور انٹر کی سطح پر قائم 8 تعلیمی بورڈز کے تحت تقریباً 10 لاکھ طلبہ امتحانات میں شرکت کریں گے، جن میں سے صرف کراچی سے ہی چار لاکھ امیدوار میٹرک کے امتحانات میں شریک ہوں گے۔ تاہم حیران کن طور پر گزشتہ آٹھ برس سے ان تمام تعلیمی بورڈز میں ایک بھی مستقل ناظم امتحانات، سیکریٹری یا آڈٹ افسر تعینات نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق تعلیمی بورڈز کے کلیدی انتظامی عہدوں پر مستقل تقرریوں کے بجائے عارضی اور اضافی چارجز کا نظام رائج ہے، جس کے باعث امتحانی نظام کی شفافیت اور کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ حالیہ صورتحال میں حیدرآباد بورڈ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر شجاع احمد مہیسر کو 19 دسمبر 2025 سے نتائج میں تاخیر کے الزام پر معطل کیا جا چکا ہے، جب کہ سکھر بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر زاہد علی چنڑ کو حیدرآباد بورڈ کے چیئرمین کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا ہے۔ اس دوہری ذمہ داری نے انتظامی امور کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماضی میں جب تعلیمی بورڈز کی کنٹرولنگ اتھارٹی گورنر سندھ کے پاس تھی تو چیئرمین، ناظم امتحانات اور سیکریٹریز کی مستقل بنیادوں پر تقرریاں کی جاتی تھیں، جس سے نظام نسبتاً مستحکم رہتا تھا۔ تاہم جب یہ اختیار وزیر اعلیٰ سندھ کو منتقل ہوا تو عارضی بنیادوں پر تقرریوں (ایڈہاک ازم) کا آغاز ہوا، اور بعد ازاں صوبائی وزیر کو کنٹرولنگ اتھارٹی منتقل کیے جانے سے میرٹ پر تقرریوں کا عمل متاثر ہوا۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ تلاش کمیٹی نے سیکریٹریز اور ناظم امتحانات کے لیے انٹرویوز کیے، تاہم انہیں صرف تین اہل امیدوار اشفاق شاہ، زرینہ راشد اور نوید احمد گجر ہی مل سکے، لیکن کنٹرولنگ اتھارٹی نے ان تینوں امیدواروں کو بھی تقرر کے لیے منظور نہیں کیا بعد ازاں ان عہدوں کے لیے دوبارہ اشتہارات جاری کیے گئے، مگر ان پر بھی تقرریاں عمل میں نہ لائی جا سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے مستقل ناظم امتحانات، سیکریٹریز اور آڈٹ افسران کی بھرتی کے لیے قواعد و ضوابط تیار کیے جا رہے ہیں، تاہم تاحال اس عمل کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔ سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچرارز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر منور عباس نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ بورڈز و جامعات سندھ تعلیمی بورڈز میں مستقل افسران کی تقرری میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، جس کے باعث کرپشن میں اضافہ اور تعلیمی نظام کی تباہی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ محکمہ بورڈز و جامعات کو ختم کرکے تعلیمی بورڈز کو محکمہ کالج ایجوکیشن کے سپرد کیا جائے، جبکہ جامعات کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے حوالے کیا جائے تاکہ نظام میں بہتری لائی جا سکے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق مستقل انتظامی ڈھانچے کی عدم موجودگی نہ صرف امتحانات کے شفاف انعقاد بلکہ نتائج کی بروقت تیاری اور بدعنوانی کے سدباب میں بھی بڑی رکاوٹ ہے، جس سے لاکھوں طلبہ کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔