کراچی (بابر علی اعوان) حکومت سندھ نے سپریم کورٹ کے واضح احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے گریڈ 20کے ایک افسر کو بیک وقت دو اہم عہدوں کا چارج دے دیا، جس پر محکمہ صحت کے سینئر افسران میں تحفظات پیدا ہوگئے ہیں اور انہوں نے اسے حق تلفی اور ادارہ جاتی کمزوری کی علامت قرار دیتے ہوئے عدلیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ اور ان کے ترجمان فرحت امتیاز سے مؤقف لینے کے لیے دو روز تک رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔ اس ضمن میں چیف سیکریٹری سندھ نے 12 مارچ 2026 کو نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ، ڈاکٹر وقار محمود میمن (بی ایس-20) کو ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول) (بی ایس-20) کا اضافی چارج بھی تین ماہ کے لیے سونپ دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو حکومت سندھ کے سابقہ مارچ 2021 کے جاری اعلامیہ نمبر SOl(SGA&CD) -1/08/2020 کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے جس میں سپریم کورٹ کی آئینی درخواست نمبر D-4134/2020 اور 5842/2020 کے تحت واضح طور پر تمام اضافی، لک آفٹر اور او پی ایس چارجز ختم کر دیے تھے، تاکہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم تازہ اقدام کو انہی عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ میں گریڈ 20 کے متعدد سینئر اور اہل افسران کی موجودگی کے باوجود کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) جیسے حساس شعبے میں مستقل تعیناتی کے بجائے عارضی چارج دینا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ یہ شعبہ ٹی بی، ہیپاٹائٹس اور ایڈز سمیت مہلک بیماریوں کے کنٹرول کا ذمہ دار ہے اور اس کے پاس اربوں روپے کا بجٹ اور بیرونی فنڈنگ بھی موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر وقار محمود میمن آئندہ تین ماہ میں ریٹائر ہونے والے ہیں، جس کے تناظر میں انہیں ایک اور اہم عہدہ سونپنے کے فیصلے کو بعض حلقے “خصوصی رعایت” یا نوازش سے تعبیر کر رہے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ وہ پہلے ہی سیکریٹری صحت کے بعد محکمہ صحت کی سب سے بڑی ٹیکنیکل پوسٹ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز، پر فائز ہیں۔