عرفان خان کا زندگی کے بارے میں لکھا ’آخری خط‘
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عرفان خان کا زندگی کے بارے میں لکھا ’آخری خط‘

گزشتہ سال 29 اپریل کو اِس دنیا سے رخصت ہونے والے بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار عرفان خان کے بڑے بیٹے بابیل خان نےاپنے والد کا ایک یادگار خط سوشل میڈیا کی زینت بنایا ہے۔

عرفان خان کا زندگی کے بارے میں لکھا ہوا ’آخری خط‘ سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے۔


عرفان خان کے بیٹے نےاپنے والد کی پہلی برسی کے موقع پراپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنے والد کے ہاتھ سے لکھے ہوئے ایک خط کی تصویر شئیر کی ہے جو انہوں نے 2018میں اس وقت لکھا تھا جب وہ لندن میں زیرِ علاج تھے۔


بابیل نے عرفان خان کےخط کی تصویر شئیرکرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ ’کیا مجھے زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت ہے ؟ میرے بابا ،ارتقاء کے آخری مراحل میں۔‘

خط کی تصویر اس تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ورسٹائل اداکار عرفان خان نےاپنی زندگی کے اس آخری خط میں لکھا کہ ’25 جنوری 2018 ، موجودہ وقت کی حقیقیت یہ ہے کہ یہ میری زندگی کا حیرت انگیز دورانیہ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ اس دورانیے نے مجھے یہ باور کروادیا ہے کہ جسم کے اندرونی میکانزم اور سحر کے تجربے کاذہنی حالت سے گہرا تعلق ہے۔‘

اپنے خط میں عرفان خان نے دنیا کی حقیقت کے بارے میں لکھا کہ ’یہ سنسنی خیز دنیا ، صاف ستھرے اور بےباک دماغوں کی ہے۔‘

خیال رہے کہ گزشتہ سال 29 اپریل کو ورسٹائل اداکار عرفان خان 53 سال کی عمر میں کولون انفیکشن کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ عرفان خان کے لواحقین میں اہلیہ اور دو بیٹے ایان اور بابیل شامل ہیں۔

عرفان خان نے اپنے فلمی کیریئر میں بالی ووڈ کی 100 سے زائد فلموں میں کام کیا جن میں پیکو، مقبول، حاصل اور پن سنگ تومر جیسی کامیاب فلمیں بھی شامل ہیں۔

ان کی ہالی ووڈ فلموں میں لائف آف پائی، جراسک ورلڈ، سلم ڈاگ ملینیئر اور دی ایمزنگ اسپائیڈرمین شامل ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید